جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے صدارتی ریفرنس پر سماعت مکمل فیصلہ کب سنایا جائیگا؟ سپریم کورٹ نے بڑا اعلان کر دیا

datetime 17  مئی‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت مکمل ہوگئی ۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کی۔دوران سماعت اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدارتی ریفرنس میں قانونی سوال یا عوامی

دلچسپی کے معاملہ پر رائے مانگی جاسکتی ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آرٹیکل 186 میں پوچھا گیا سوال حکومت کی تشکیل سے متعلق نہیں ہے۔چیف جسٹس کے استفسار پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ماضی میں ایسے واقعات پر صدر مملکت نے ریفرنس نہیں بھیجا، عدالت صدارتی ریفرنس کو ماضی کے پس منظر میں بھی دیکھے۔اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ صدر مملکت کو صدارتی ریفرنس کے لیے اٹارنی جنرل سے قانونی رائے لینے کی ضرورت نہیں ہے ،آرٹیکل 186 کے مطابق صدر مملکت قانونی سوال پر ریفرنس بھیج سکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کیا آپ صدر مملکت کے ریفرنس سے لاتعلقی کا اظہار کررہے ہیں جس پر اٹانی جنرل نے کہا کہ مجھے حکومت کی طرف کوئی ہدایات نہیں ملی۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد اب حکومت میں ہے، اپوزیشن کا حکومت میں آنے کے بعد بھی صدارتی ریفرنس پر وہی مؤقف ہو گا، جو پہلے تھا، میں بطور اٹارنی جنرل عدالت کی معاونت کروں گا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ریفرنس ناقابل سماعت ہے؟ کیا اپ کہہ رہے ہیں کہ ریفرنس کو جواب کے بغیر واپس کر دیا جائے۔جسٹس منیب نے کہا کہ سابق اٹارنی جنرل نے ریفرنس کو قابل سماعت قرار دیا، بطور اٹارنی جنرل اپ اپنا مؤقف ظاہر کرسکتے ہیں جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریفرنس سابق وزیراعظم کی تجویز پر فائل کیا گیا تھا۔5رکنی بینچ میں شامل جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا یہ حکومت کامؤقف ہے، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ میرا موقف بطور اٹارنی جنرل ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ سابق حکومت کا موقف پیش کرنے کیلئے انکے وکلاء موجود ہیں، صدر مملکت کو قانونی ماہرین سے رائے لیکر ریفرنس فائل کرنا چاہیے تھا، قانونی ماہرین کی رائے مختلف ہوتی تو صدر مملکت ریفرنس بھیج سکتے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…