جمعرات‬‮ ، 15 جنوری‬‮ 2026 

اپوزیشن کے غبارے سے ہوا نکل گئی،شیخ رشید احمد نے مارچ کے حوالے سے بڑی پیش گوئی کر دی

datetime 2  مارچ‬‮  2022 |

اسلام آباد (آن لائن )وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے دعویٰ کیا ہے کہ اپوزیشن میں ڈیڈلاک پڑچکا ہے کوئی تحریک عدم اعتمادنہیں آئے گی اور 23 مارچ کا کوئی لانگ مارچ نظرنہیں آ رہا۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ بلاول بھٹو بے شک اسلام آباد آئیں انہیں کوئی رکاوٹ نہیں ملے گی۔ وزیراعظم کی چوہدری براداران سے ملاقات کے بعد سب کچھ واضح ہوگیا ہے

اپوزیشن کے غبارے سے ہوا نکل گئی،عمران خان نے ملاقات کر کے اچھا کیا۔ شیخ رشید نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان ملاقات کیلئے نہ جاتے تو افواہیں جنم لیتیں، ق لیگ اور ایم کیوایم ہماری اتحادی جماعتیں ہیں، چھانگامانگا،مری کی سیاست اب نہیں چلیگی اپوزیشن ممبران کوکہاں لیکرجائیگی اب ماضی نہیں حال ہے۔ ، سیاست کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے، عمران خان کو جہانگیر ترین اور ایم کیو ایم سے بھی ملاقات کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی لوگوں سے رابطے رہنے چاہئیں،وزیراعظم ملاقاتیں کریں گے حکومتی ممبران پورے ہیں کوئی ممبر کہیں نہیں جارہا، بلاول بھٹوکے پاس ہمارے ممبران کے نام ہیں تواعلان کردیں اپوزیشن اپنے لوگوں کودیکھے کہیں وہ ہمیں سپورٹ نہ کردے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتمادمیں ڈیڈلاک پیداہو چکا ہے اپوزیشن اپنی سیاسی موت خودمرچکی ہے اپوزیشن کی پوزیشن خراب عمران خان کی پوزیشن بہترہے، 9دن اپوزیشن اپنیممبران کوسنبھال کرنہیں رکھ سکتی، عدم اعتماد کیلئے9دن ہوتیہیں ان کیتلوں میں تیل نہیں۔ شیخ رشید نے کہا ہے کہ اپوزیشن ہمارے اتحادیوں اور اسلامی بھائیوں سے بھیک مانگ رہی ہے، ہمارے اتحادی صرف ان کا وقت ضائع کررہے تھے انہیں سمجھ نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد ٹھس ہوچکی ہے، ہمیں گھر بھیجنے والے خود گھر جائیں گے، ان کے 12ممبر کم ہیں۔ اپوزیشن اپنی سیاسی موت مرچکی ہے.شیخ رشید نے کہا کہ گزشتہ روز کے معاشی ریلیف کے بعد عمران خان اور مضبوط ہو چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…