منگل‬‮ ، 19 مئی‬‮‬‮ 2026 

عالمی منڈی سے ڈیزل کا حصول مشکل ہوگیا ،سپلائی میں کمی کے باعث پاکستان میں ڈیزل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ،پاکستان کو 2015 جیسے بحران کا سامنا

datetime 2  مارچ‬‮  2022 |

کراچی (این این آئی)تیل کی عالمی صنعت کو درپیش خطرات، ڈیزل کی پیداوار اور سپلائی میں کمی کے باعث پاکستان میں ڈیزل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔تفصیلات کے مطابق آئل کمپنیز ایڈوائزری کمیٹی(او سی اے سی)نے ربیع کی فصلوں کی کٹائی کے لیے ڈیزل کی اضافی طلب پوری کرنے اور ممکنہ بحران سے بچنے کے لیے حکومت کو تجاویز ارسال کردی ہیں۔

او سی اے سی کی جانب سے اوگرا کو ڈیزل کے ممکنہ بحران سے آگاہ کردیا گیا ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ امریکا کے ذخائر گررہے ہیں، چین نے ایکسپورٹ پر پابندی عائد کردی، یورپی ریفائنریز نے پیداوار کم کردی ہے، عالمی منڈی سے ڈیزل کا حصول مشکل ہوگیا ہے، پاکستان کو 2015 جیسے بحران کا سامنا ہوگا، پیٹرولیم مارکیٹنگ کمپنیوں کو ڈیزل کی خریداری میں مشکلات کا سامنا ہے۔خط کے مطابق چارمارکیٹنگ کمپنیاں ایک ہی سپلائر سے ڈیزل خریدتی ہیں جسے انکوائری کا سامنا ہے، پیٹرولیم سیکٹر میں ایک بڑے مالیاتی اسکینڈل کی وجہ سے بینکوں نے فنانسنگ روک دی ہے، ڈیزل کی 40 فیصد کھپت درآمدات کے ذریعے پوری کی جاتی ہے۔خط کے مطابق ربیع کی فصلوں کی کٹائی کی وجہ سے ڈیزل کی کھپت بڑھ رہی ہے اگرچہ اس وقت ملک میں 21 روز کی ضرورت کا ڈیزل کا ذخیرہ موجود ہے تاہم یومیہ کھپت 25 سے 30 ہزار میٹرک ٹن تک پہنچنے کا امکان ہے۔مندرجات میں کہا گیا ہے کہ ڈیزل کی متواتر سپلائی کے لیے موثر منصوبہ بندی نہ کی گئی تو بحران کا سامنا ہوگا۔ او سی اے سی نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ مارچ تا جون میں ڈیزل کی طلب پوری کرنے کے لیے ریفائنریز کو پوری پیداواری گنجائش پر چلایا جائے اور مارچ تا جون کے دوران پاور سیکٹر کے لیے ڈیزل کے استعمال کو ممنوع قرار دیا جائے۔خط میں مزید کہا گیا ہے کہ پاور سیکٹر کو مقامی فرنس آئل استعمال کرنے کا پابند بنایا جائے، درآمدی ڈیزل پر انحصار کرنے والی مارکیٹنگ کمپنیاں مربوط اور موثر امپورٹ پلان تشکیل دیں اور ایک سپلائر پر انحصار کے بجائے متبادل اور متعدد سپلائی کے ذرائع اختیار کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…