بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

سرکاری اداروں سے سیاسی مداخلت کے خاتمہ کے وزیر اعظم کے اعلان کی نفی، حکمران جماعت کے رکن اسمبلی نے ترقیاں رکوا دیں

datetime 11  اکتوبر‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن)سرکاری اداروں سے سیاسی مداخلت ختم کرنے کے وزیر اعظم عمران خان کے اعلان کی نفی کرتے ہوئے حکمران جماعت کے وفاقی دارلحکومت سے منتخب رکن قومی اسمبلی خرم نوازنے قائد اعظم یونیورسٹی کی گزیٹیڈافسران کی پرومووشن کوٹہ پرترقیاں رکوا دیں۔ رکن قومی اسمبلی خرم نواز بحیثیت عہدہ قائد اعظم یونیورسٹی کی سینڈیکیٹ کے ممبر ہیں۔

با خبر ذرائع اس امر کی تصدیق کر رہے ہیں کہ رکن قومی اسمبلی خرم نواز نے 25ستمبر کو منعقدہ قائد اعظم یونیورسٹی کی سینڈیکیٹ میٹنگ میں سینڈیکیٹ ممبران کو اس وقت حیران کر دیا جب سینڈیکیٹ نے قائد اعظم یونیورسٹی کی پروموشن کوٹہ کے ترقیوں کے معاملہ کی منظوری لینی چاہی۔ایجنڈے میں جامعہ کی ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ گزیٹیڈ پوسٹوں پر تعیناتیوں کی منظوری لینا تھی۔ایسٹاکوڈ کے مطابق تمام وفاقی جامعات اپنی خالی پوسٹوں پر 50فیصد پروموشن کوٹہ جبکہ بقیہ 50فیصد اوپن میرٹ پر بھرتیوں کی پابند ہیں۔رکن قومی اسمبلی خرم نواز نے 25ستمبر کو منعقدہ سینڈیکیٹ میٹنگ کے دوران باقی سینڈیکیٹ ممبران کی طرف سے مروجہ قانون سے آگہی دینے کے باوجود اپنے حلقے کے لوگوں کو نوازنے پر مصر رہے۔سینڈیکیٹ ممبران کی طرف سے بار ہا کی وضاحتوں کے بعد بھی رکن قومی اسمبلی خرم نواز صرف اس حد تک راضی ہوئے کہ مذکورہ پوسٹوں پر پروموشن کوٹہ کو بالائے تاک رکھتے ہوئے رکن قومی اسمبلی کے من پسند افراد کی بھرتیوں کی منظوری چانسلر جامعہ (صدر مملکت) سے لی جائے ، ایک موقع پر دوران اجلاس رکن قومی اسمبلی خرم نواز نے یہ بھی بھڑک ماری کی آپ میری مانیں یا نہ مانیں صدر مملکت کو میں منا لوں گا۔قائدا عظم یونیورسٹی سینڈیکیٹ کے ہی ایک ممبر نے نمائندہ آن لائن کو بتایا کہ کہ اگر من پسند افراد کو نوازنے کیلئے

ایسٹا کوڈ کی اس طرح روح گردانی کی گئی تو اس سے سینئر افسران شدید بد دلی کا شکار ہوں گے۔اور جامعات اپنی تقدس آہستہ آہستہ کھونا شروع کر دیں گیں۔واضح رہے قائد اعظم یونیورسٹی میں سیاسی مداخلت کی یہ کوئی اکلوتیمثال نہیں بلکہ حکمران کے دیگر اراکین اسمبلی جن میں حلقہ این اے 57سے منتخب نومولود رکن اسمبلی بھی اپنے پرائیویٹ بزنس کو عروج دینے کیلئے سرکاری جامعات میں کافی حد تک دلچسپی لیتے دکھائی دیتے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…