کراچی (این این آئی) چیئرمین آل پاکستان کنفکشنری ایسوسی ایشن جاوید عبداللہ نے کہا کہ ہے کہ سپاری کی درآمد پر ابہام پیدا کرکے ملک کو سالانہ اربوں روپے ریوینیودینے والی سویٹ سپاری کی صنعت کو اسمگلروں اور بلیک مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔یوں لگتا ہے جیسے باقاعدہ منصوبے کے تحت حکومتی خزانے کو ریوینیو سے محروم رکھا جارہا ہے
اور ملک میں بے روزگاری بڑھا کر عوام میں بے چینی پیدا کی جارہی ہے۔ چیف جسٹس, آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے اپیل کرتا ہوں کہ اس معاملے کو معاشی دہشت گردی کے طور پر دیکھا جائے۔ اور اس معاملے کی اعلی سطحی تحقیقات کرکے ملک دشمن عناصر کو بے نقاب کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار آل پاکستان کنفکشنری ایسوسی ایشن کے چیئرمین جاوید عبداللہ نے پریس کلب میں صحافیوں سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ نامعلوم اور غیر اعلانیہ پابندیوں سے سوئٹ سپاری کی صنعت کو تباہی کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ جب قانون اور پالیسی واضح ہی نہیں تو ادارے کس بنیاد پر چھاپے ماررہے ہیں۔واضح قانون نہ ہونے کے سبب ادارے فیکٹریوں پر چھاپے مارکر کروڑوں کا مال ضبط کررہے ہیں۔ جس سے کاروباری حلقوں میں بے یقینی بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کنفکشنری کے ساتھ جڑی متعدد صنعتیں براہ راست متاثر ہورہی ہیں۔ جن سے ہزاروں خاندانوں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔ حکومتی اداروں کا رویہ ملکی معیشت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ آزاد اور مشترکہ تحقیقات کے ذریعے پتا لگایا جائے کہ اس ابہام سے کسے فائدہ پہنچ رہا ہے؟ گٹکے اور مین پوڑی کی آڑ میں سپاری کی صنعت کو اسمگلروں اور بلیک مافیا کے ہاتھوں میں دے دیا گیا ہے۔ جاوید عبداللہ نے کہا کہ سپاری پر پابندی سے متعلق کسی قسم کا قانون ہمارے علم میں نہیں ہے۔
اگر اس سلسلے میں کوئی قانون ہے تو اسے منظر عام پر لایا جائے۔ماضی میں سرعام فروخت ہونے والی سپاری پر اچانک ایسی کیا آفت آن پڑی کہ اس کی درآمد کو اتنا مشکل اور پیچیدہ بنادیا گیا ہے کہ جس سے قوم اور قومی خزانہ دونوں نقصان اٹھارہے ہیں۔ اور سپاری کی باقاعدہ امپورٹ کم ہوکر اسمگلروں کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے۔ اگر یہی
سلسلہ جاری رہا تو پاکستان سے سوئیٹ سپاری کی صنعت ختم ہوجائے گی۔ اس سے ہزاروں خاندان بے روزگار ہوجائیں گے۔ چیئرمین آپکا نے مزید کہا کہ ایک طرف سویٹ سپاری کی صنعت کو کراچی میں محدود کردیا گیا ہے تو دوسری جانب دیگر صوبوں میں اس صنعت کے لیے بھرپور مواقع موجود ہیں۔ ایک ہی صنعت کے حوالے سے ملک میں مختلف قوانین سے کہیں کراچی کی معاشی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش تو نہیں کی جارہی۔



















































