جمعرات‬‮ ، 07 مئی‬‮‬‮ 2026 

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو یہ یقین تھا کہ وہ کہیں بھی چلے جائیں ایٹمی پروگرام کو کچھ نہیں ہو سکتا، نہ کوئی اس سے چھیڑ خانی کرسکتا نہ ہی اسکو ڈی ریل کرسکتا ہے، تہلکہ خیز انکشافات

datetime 10  اکتوبر‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستا ن کے سابق آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل(ر)اسد درانی کی اپنے بھارتی ہم منصب سابق را چیف اے ایس دلت کے ساتھ مشترکہ کتاب ’’دی سپائی کرونیکلز : را اینڈ آئی ایس آئی دی الوژن آف پیس‘‘ شائع ہوئی تھی ۔ کتاب میں مصنف کے پوچھنے پراسد درانی نے اپنی زندگی کا اہم اور یادگار واقعہ سناتے ہوئے پاکستانی ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے

حوالے سے بتایا کہ غلام اسحٰق خان کے دور میں جب وہ ڈی جی ایم آئی تھے تو وہ ایک تقریب میں شریک ہوئے توتقریب سے واپسی پر دروازے پر کھڑے دربان نے آواز لگائی کہ جنرل درانی صاحب کی گاڑی لے آئو۔ اس دوران وہ میرے قریب آگیا اور سرگوشی کے انداز میں بولا ” جنرل صاحب آپ ایک طرف کھڑے ہوجائیں ،میں نے آپ سے بات کرنی ہے “میں نے پوچھا ”کیا ہوا؟“تو بولا کہ” ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی اس طرح کی تقریبات میں آنے کی کیا تُک ہے ۔مطلب یہ کہ اس شخص کو خود سوچنا چاہئے کہ اسکو ایسی تقریبات میں نہیں جانا چاہئے ۔صاحب میں اپنی ڈیوٹی کرتا ہوں ،میں نے کبھی نہیں کہا ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی گاڑی لے آئو۔میں ہمیشہ یہ کہتا ہوں کہ ڈرائیور فضلو خان گاڑی لے آؤ۔اس طرح کسی کو معلوم نہیں ہوپاتا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اس تقریب میں شامل تھے ۔میری کوشش ہوتی ہے کہ انہیں گمنام ہی رکھوں مگر وہ آتے ہیں اور ہر چیز میں نمایاں ہوتے ہیں ۔“جنرل اسد درانی نے بتایا کہ ڈاکٹر اے کیو خان کو ہر جگہ جانے سے بڑا اطمینان ہوتا تھا مگر بہت سے لوگوں کو انکی یہ حرکت پسند نہیں تھی کہ وہ ہرجگہ پہنچ جایا کرتے تھے ،خود نمائی اورذاتی تشہیرانکی کمزوری رہی ۔اس حوالے سے جب میں صدر اسحاق خان سےبات کی اورصدر سے کہا کہ” سر ڈاکٹر عبدالقدیر خان لگاتار مختلف تقریبات میں جاتے اور بیانات بھی دیتے ہیں ،ان کا یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے “صدر نے کہا کہ وہ سب جانتے ہیں مگر یہ شخص ایٹمی پروگرام کے لئے انتہائی ناگزیر ہے اس لئے اس کی کچھ چیزیں برداشت کرنا پڑتی ہیں ۔جنرل درانی نے مزید بتایاکہ میں نے یہ بھی سنا تھا کہ جب کوئی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اس بارے کہتا تو وہ کہتے کہ تمہیں اس سے کیا سروکار،جاؤ جاکر صدر سے بات کرو“میرا اندازہ ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو یہ یقین تھا کہ وہ جہاں بھی چلے جائیں،اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ ایٹمی پروگرام کو کچھ نہیں ہوسکتا ،کوئی اس سے چھیڑ خانی نہیں کرسکتا نہ اسکو ڈی ریل کرسکتا ہے۔



کالم



آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)


مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…