جمعرات‬‮ ، 15 جنوری‬‮ 2026 

بیوی کے کہنے پر اس کے جوتے بھی اُٹھا سکتا ہوں، شہروز سبزواری

datetime 6  ستمبر‬‮  2021 |

کراچی(این این آئی)پاکستانی شوبز انڈسٹری کے اداکار شہروز سبزواری اپنی سابقہ اہلیہ کی ایک عادت سے بہت زیادہ متاثر ہوئے جس کا انہوں نے برملا اعتراف کیا ہے۔شہروز سبزواری نے حال ہی میں اپنی دوسری اہلیہ صدف کنول کے ہمراہ نجی ٹی وی کے پروگرام میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنی نجی زندگی اور پیشے کے حوالے سے گفتگو کی۔انہوں نے کہا کہ

اگر میری بیوی اور پارٹنر بولتی ہیں کہ کپڑے اٹھا کر دیں تو میں انہیں اٹھا کر دوں گا، ان کا کہنا تھا کہ بطور شوہر اہلیہ کو جوتے یا کپڑوں سمیت دوسری چیزیں اٹھا کر دینا میری ذمہ داری ہے، اہلیہ کے کہنے پر جوتے بھی اٹھا کر دوں گا۔ شہروز سبزواری نے اپنی صاحبزادی کی تربیت سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اولاد کی تربیت ماں سے اچھی کوئی نہیں کرسکتا، اس میں کوئی شک نہیں کہ سائرہ میری بیٹی نورے کی بہت اچھی تربیت کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں تو صرف نورے کے ساتھ تھوڑا وقت گزارتا ہوں، لیکن نورے کی اصل تربیت سائرہ کررہی ہے۔شہروز سبزواری نے کہاکہ نورے کو کم عمری کی وجہ سے باتیں ٹھیک طرح سے سمجھ نہیں آتیں مگر والدہ اور وہ ایک دوسرے کی باتوں کو سمجھ جاتے ہیں۔یاد رہے کہ شہروز سبزواری نے گزشتہ برس سائرہ یوسف سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد لاک ڈاؤن کے دوران صدف کنول سے شادی کی تھی۔سابق اہلیہ سائرہ یوسف کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سائرہ نے نورے کی بہت اچھی تربیت کی ہے۔شہروز سبزواری نے ایک ٹی وی پروگرام میں اہلیہ صدف کنول کے ہمراہ شرکت کی۔بیٹی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے شہروز سبزواری نے کہا کہ نورے کو ابھی میری باتیں ٹھیک سے سمجھ نہیں آئیں گی کیونکہ وہ بہت چھوٹی ہے۔اداکار شہروز سبزواری نے کہا کہ نورے زیادہ تر وقت اپنی والدہ کے ساتھ ہی گزارتی ہے۔شہروز سبزواری نے کہا کہ ماں، ماں ہوتی ہے اولاد کی تربیت ماں سے اچھی کوئی نہیں کرسکتا ہے اور سائرہ نے نورے کی بہت اچھی تربیت کی ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…