جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

پاک فوج کے جوانوں نے فلڈ ریلیف اور ریسکیو آپریشن تیز کر دیا

datetime 25  جولائی  2015 |

راولپنڈی (نیوزڈیسک) پاک فوج کے جوانوں نے چترال، گلگت بلتستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں فلڈ ریلیف اور ریسکیو آپریشن جاری رکھااور مزید درجنوں افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچا دیا ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق چترال میں اب تک 17.5 ٹن راشن تقسیم کیا جا چکا ہے اور ایم آئی 17 دو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے رمبور، کورگ، بیڑی، بھمبورٹ اور چشمہ کے علاقوں سے 164 متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا آرمی انجینئرز نے N-45 روڈ چترال تک ہر قسم کی ٹریفک کے لئے کھول دی ہے جبکہ چترال اور بنی سے سڑک لائٹ ٹریفک کے لئے کھلی ہے۔ چترال بھمبورٹ سڑک پر کام میں پیشرفت ہو رہی ہے اور بنی مستنگ سڑک کی بھی مرمت کی جا رہی ہے۔ گلگت بلتستان میں استور کے ضلع میں تباہ شدہ 40 کلو میٹر سڑک فوجی انجینئروں نے مرمت کی اور ضلع ہنزہ، سکردو، کھپلو اور گھانچے میں شاہرات کی بحالی میں پیشرفت ہو رہی ہے۔ شگر، کھپلو اور ہنزہ میں چار میڈیکل ریلیف کیمپ قائم کئے گئے ہیں اور خیمے لگا دیئے گئے ہیں۔ ریلیف کیمپوں میں متاثرہ لوگوں کو تیار شدہ خوراک فراہم کی جا رہی ہے۔ وزیرستان اور شگر میں دو ہزار سے زائد خاندانوں کو تیار شدہ کھانا فراہم کیا گیا ہے اور کھپلو کے متاثرہ لوگوں کو وافر مقدار میں کے ٹو آئل فراہم کیا گیا۔ جنوبی پنجاب میں فوجی جوانوں نے کشتیوں کے ذریعے ڈیرہ غازی خان کے علاقہ جھکڑ امام میں 71 افراد کو بچایا۔ راجن پور، ڈی جی خان، مظفر گڑھ اور لیہ کے سیلاب کے ممکنہ علاقوں میں آﺅٹ بوٹ موشنز اور لائف جیکٹس فراہم کی گئی ہیں راجن پور اور لیہ میں دو میڈیکل کیمپ قائم کئے گئے ہیں جبکہ فوجی جوانوں نے سول انتظامیہ کے تعاون سے رحیم یار خان، صادق آباد، خان پور اور لیاقت پور میں گزشتہ دو روز کے دوران 13893 افراد کو سیلابی پانی سے باہر نکالا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…