کابل (نیوزڈیسک)افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا دوررواں جولائی میں آخری ہفتے میں متوقع ہے ۔افغانستان کی اعلیٰ امن کونسل کے ترجمان مولوی شہزادہ شاہد نے ”بی بی سی “کو بتایا کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا آئندہ دور ماہِ رواں کے آخر میں منعقد ہو سکتا ہے تاہم انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں حتمی فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ انھوں نے نہیں بتایا کہ مذاکرات کا یہ دور کس ملک میں منعقد ہو گاتاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان جولائی کے آخر میں ہونے والے مذاکرات پاکستان میں نہیں ہوں گے۔اعلیٰ امن کونسل کے ترجمان نے بتایا کہ مذاکرت کے دوسرے دور میں جنگ بندی پر بات ہونی چاہیے اور جنگ بندی اعتماد سازی کے قیام میں اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے اس سے قبل افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور پاکستان کے سیاحتی مقام مری میں ہوا تھاسات جولائی کو ہونے والے مذاکرت میں طالبان کی جانب ملا عباس اخوند، عبدالطیف منصور اور حاجی ابراہیم حقانی شریک تھے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں ہونے والے مذاکرات میں طالبان کے قطر میں قائم سیاسی دفتر کے عہدیدران شامل نہیں تھے۔مذاکرات کے پہلے مرحلے میں طالبان کے قطر دفتر کی عدم شمولیت اور آئندہ مذاکرات میں ا ±ن کی نمائندگی کے حوالے سے مولوی شہزادہ شاہد نے کہا کہ مذاکرات کے دوسرے دور میں طالبان کے قطر دفتر کی نمائندگی ہونے چاہیے۔اگرچہ طالبان کی شوریٰ نے مری میں ہونے والے امن مذاکرات کی مخالفت نہیں کی تاہم ہماری خواہش ہے کہ قطر کے دفتر کو اس عمل میں شامل کیا جائے تاکہ امن مذاکرات وسیع تر بنیاد پر ہوں سات جولائی کو پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کے بعد آٹھ جولائی کو طالبان کی رہبر شوریٰ نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں مری میں ہونے والے مذاکرات کا ذکر نہیں کیا گیا تھا تاہم بیان میں یہ تاثر ملتا ہے کہ مذاکراتی عمل میں شریک طالبان رہنماو ¿ں کو محض ایک مرتبہ نمائندگی کی اجازت دی گئی تھی تاہم آٹھ جولائی کو جاری ہونے والے بیان میں بات واضح طور پر کی گئی تھی کہ آئندہ مذاکرت کا اختیار صرف اور صرف سیاسی دفتر ہی کو حاصل ہو گا۔ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان کے قطر میں قائم سیاسی دفتر کے نمائندوں کو مذاکرات میں شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم ابھی تک یہ واضع نہیں ہوا کہ ان رابطوں کے کیا نتائج نکلے ہیں۔بعض ذرائع کے مطابق اس بات کا قویٰ امکان ہے کہ قطر میں طالبان کے دفتر کے ایک یا ا ±س سے زائد نمائندے مذاکرات میں حصہ لیں گے۔
افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا دوررواں جولائی میں آخری ہفتے میں متوقع
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
موسمی پرندے
-
مولانا طارق جمیل نے بچے سے ہاتھ کیوں نہیں ملایا اور بچہ کون ہے؟ وضاحت سامنے آگئی
-
انمول پنکی کیسے گرفتار ہوئی؟ تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے
-
ڈاکٹر سارنگ ہلاکت کیس میں اہم پیش رفت،مقتول کی اہلیہ مبینہ طور پر ملوث نکلی
-
پیٹرول کی قیمتیں کب کم ہوں گی؟ خواجہ آصف نے بڑی خوشخبری سنا دی
-
عوام کیلئے بڑی خوشخبری ، عالمی مارکیٹ میں سولر پینلز کی قیمتیں تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئیں
-
عید الاضحیٰ کے دوران ملک بھر میں موسم کیسا رہےگا؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کردی
-
تعلیمی اداروں میں موسم گرما کی تعطیلات کا اعلان
-
بیرونِ ملک جانے والے پاکستانی شہریوں کو اہم ہدایت جاری
-
آئی پی پیز کو دفن کر دیا ، اب بجلی کو اتنا سستا کرنے جا رہے ہیں کہ لوگ بیٹری میں محفوظ کر کے را...
-
پاکستان کی ایران جنگ بندی کوششیں، یو اے ای ناراض، پاکستانی کارکنوں کی بے دخلی شروع، نیو یارک ٹائمز ک...
-
ایک میزائل، متعدد نشانے، بھارت کا’’مشن دیویاستر‘‘ کے تحت ایڈوانسڈ اگنی میزائل کا کامیاب تجربہ
-
ذوالحج 1447 ہجری کا چاند کب نظر آنے کا امکان ہے؟ سپارکو نے ممکنہ تاریخ بتا دی
-
پی ڈی ایم اے پنجاب کا صوبہ بھر میں آندھی اور بارشوں کے متعلق الرٹ



















































