بدھ‬‮ ، 02 ستمبر‬‮ 2026 

ٹی20 ورلڈ کپ بھارت سے عرب امارات منتقلی کا معاملہ ٹورنامنٹ ڈائریکٹر نے بڑا اعلان کردیا

datetime 2  مئی‬‮  2021 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارت میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ابتر ہوتی صورتحال کے پیش نظر رواں سال شیڈول ٹی20 ورلڈ کپ کو بھارت سے متحدہ عرب امارات منتقل کرنے کا منصوبہ بنالیا ۔ تفصیلات کے مطابق ٹی20 ورلڈ کپ رواں سال اکتوبرـنومبر میں بھارت میں شیڈول ہے جس کا فائنل 14 نومبر کو کھیلا جائے

گا اور ٹورنامنٹ میں 16 ٹیمیں شرکت کریں گی۔ٹورنامنٹ ڈائریکٹر دھیرج ملہوترا نے بتایا کہ ہم ہر طرح کی صورتحال کیلئے خود کو تیار کررہے ہیں اور اگر صورتحال بدترین شکل اختیار کر جاتی ہے تو ٹورنامنٹ کو متحدہ عرب امارات منتقل کر کے وہاں میزبانی کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ ہم ٹورنامنٹ کے بھارت میں انعقاد کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں اور اس وقت مستقل انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) سے رابطے میں ہیں۔بھارت میں کورونا وائرس کے کیسز اور اموات کے ساتھ ساتھ بھارت میں خطرناک ہوتی صورتحال کو دیکھتے ہوئے کرکٹ برادری نے ٹی20 ورلڈ کپ کے بھارت میں انعقاد کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔کرکٹ برادری نے ان سوالات کرنے شروع کردئیے ہیں کہ ورلڈ کپ کے انعقاد میں اب محض 6ماہ باقی ہیں تو کیا ایسے میں بھارت ایونٹ کی میزبانی کے لیے موزوں ملک ہے۔دھیرج ملہوترا نے کہا کہ اگر آئی سی سی کو ایونٹ کیلئے بھارت غیرمحفوظ ملک لگا تو بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان

انڈیا(بی سی سی آئی) نے ایونٹ کو ہنگامی بنیادوں پر متحدہ عرب امارات منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔بھارتی بورڈ نے 9 مقامات پر ورلڈ کپ کے انعقاد کا منصوبہ بنایا ہے جس میں ممبئی، احمد آباد، لکھنؤ، چنائی، بنگلورو، دہلی، دھرمشالا ، کولکتہ اور حیدرآباد شامل ہیں

جبکہ فائنل کی میزبانی احمدآباد میں بنایا گیا دنیا کا سب سے بڑا کرکٹ اسٹیڈیم کرے گا جس میں ایک لاکھ 10 ہزار افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔آئی سی سی کی ٹیم کو انتظامات، حفاظتی اقدامات اور سہولیات کا جائزہ لینے کے لیے بھارت کا دورہ کرنا تھا لیکن متحدہ عرب امارات کی

جانب سے بھارت پر عائد سفری پابندیوں کی وجہ سے جائزہ ٹیم کسی موزوں وقت پر دورہ کرے گی۔دھیرج نے کہا کہ ابھی ہم اصل منصوبے پر عمل کرنے کے لیے پرعزم ہیں کیونکہ ابھی تک ہمیں نہیں پتہ کہ کیا صورتحال جنم لیتی ہے البتہ متبادل منصوبہ بنایا جا چکا ہے۔واضح رہے کہ

اس وقت بھارت میں انڈین پریمئر لیگ کا انعقاد ہو رہا ہے جس میں 8 ٹیموں میں دنیا بھر کی بہترین ٹیموں کے کھلاڑی شریک ہیں تاہم جب اس ایونٹ کا آغاز ہوا، اس وقت پڑوسی ملک میں صورتحال نسبتاً بہتر تھی البتہ گزشتہ دو ہفتوں میں صورتحال تباہ کن شکل اختیار کر چکی ہے۔کئی ممالک نے بھارت میں پروازوں پر پابندی عائد کردی ہے اور کئی ممالک سے بھارت امداد پہنچنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…