اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

منی لانڈرنگ اوراثاثہ جات کیس حمزہ شہباز کی ضمانت منظور،رہا کرنے کا حکم

datetime 24  فروری‬‮  2021 |

لاہور(این این آئی) لاہورہائی کورٹ نے منی لانڈرنگ اورآمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں پنجا ب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کی ایک ، ایک کروڑ کے دو مچلکوں کے عیوض درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دے دیا۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اور جسٹس اسجد جاوید گھرال نے کیس کی سماعت کی ۔

دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر فیصل بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کیس میں شہبازشریف خاندان کے6افراداشتہاری ہوچکے، 4ملزمان انکے خلاف وعدہ معاف گواہ بن چکے ہیں، اکائونٹ میں پیسے کی ٹرانزیکشن پرمنی لانڈرنگ ایکٹ لگایاگیا۔نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ وکیل کہتے ہیں حمزہ شہبازپراپنے والدکابے نامی دارہونے کاالزام ہے، ملزم کے والد عوامی عہدہ رکھتے تھے اوروزیراعلی رہے، حمزہ شہبازبے نامی بھی ہیں اورخودبھی اس میں ملوث رہے۔وکیل نیب نے دلائل میں کہا کہ ٹھوس شواہدہیں حمزہ شہبازمنی لانڈرنگ میں والدکے معاون اورشریک رہے جبکہ شہباز شریف خاندان ملازمین اور دوستوں کے ذریعے منی لانڈرنگ کرتاتھا ، نصرت ،حمزہ ، سلمان ، رابعہ کے نام پرجعلی ٹی ٹیز آتی تھیں، رقم سے جائیدادیں خریدیں اور کاروبار کیے گئے، جن کے نام پر کروڑوں آئے ان کا شہبازشریف خاندان سے کوئی تعلق ہی نہیں، کوئی پاپڑ والاہے کوئی مزدور ہے ، بعض نے بتایا ان کا پاسپورٹ جعلی بنایا گیا وہ کبھی باہر نہیں

گئے۔ نیب پراسیکیوٹر نے بتایا ملزم فضل عباسی جعلی ٹی ٹی کراتا تھا، یہ کلاسیکل منی لانڈرنگ کیس ہے، ٹی ٹی کرانے والوں نے بتایا وہ ملک سے کبھی باہر نہیں گئے، جس پر عدالت نے استفسار کیا وعدہ معاف گواہ کون کون ہیں، وکیل نیب نے کہا محمد مشتاق، یاسرمشتاق،

شاہد رفیق اور آفتاب محمود وعدہ معاف گواہ ہیں ۔جس کے بعد حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت پر وکیل اعظم نذیرتارڑ نے جوابی دلائل دیتے ہوئے کہا حمزہ شہباز20ماہ سے جیل میں ہیں، وہ بری ہوتے ہیں تواتناعرصہ قیدرکھنے کاحساب کون دے گا۔اعظم نذیرتارڑ کا کہنا تھا کہ حمزہ شہباز

صوبے کے اپوزیشن لیڈرہیں ، عدالت نے ایک بارحمزہ شہبازکوبرطانیہ جانے کی اجازت دی، اگرانھیں ملک سے بھاگنا ہوتا تو واپس نہ آتے، حمزہ شہبازکاسب کچھ اس ملک میں ہے۔لاہور ہائی کورٹ نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے ایک ،ایک کروڑ کے دو مچلکے جمع کروانے کا حکم دیدیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…