اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

کچھ ایسی وجوہات ہیں جو بتانا نہیں چاہتا،اسد درانی کیس میں نیا موڑ، جسٹس محسن اختر کیانی نے مزید سماعت سے معذرت کر لی

datetime 12  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی کا نام ای سی ایل سے نکلوانے کے حوالے سے درخواست پر سماعت سے معذرت کرلی۔جمعہ کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے حوالے

سے کیس کی سماعت کی۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس پر مزید سماعت سے معذرت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کیس کا سارا بیک گراؤنڈ جانتا ہوں، فیصلہ بھی لکھنے کے مرحلے میں تھا۔ یہ افسوسناک ہے لیکن کچھ ایسی وجوہات ہیں جو بتانا نہیں چاہتا۔ میں یہ کیس چیف جسٹس اطہر من اللہ کو بھیج رہا ہوں۔ چیف جسٹس ہی اس کیس پر سماعت کیلئے نئے بنچ کا فیصلہ کریں گے۔دوسری طرف انسداد دہشتگردی عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ حملہ کیس میں گرفتار مزید 4 وکلا کو 7 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پرجیل بھیج دیا ہے۔ اسلام آباد کے وکلاء کی ہڑتال چوتھے روز بھی جاری ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ اور جوڈیشل کمپلیکس میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ رات گرفتار ہوئے اسلام آباد بار کے سیکرٹری لیاقت کمبوہ سمیت چاروں گرفتار وکلا کو انسداد دہشتگردی عدالت کے جج راجہ جواد عباس کے روبرو پیش کیا گیا۔ عدالت نے چاروں کو 19 فروری کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ ہائیکورٹ حملہ کیس کی ایف آئی آر تھانہ رمنا جبکہ سیشن جج کی عدالت میں توڑ پھوڑ کا مقدمہ تھانہ مارگلہ میں درج ہے۔دوسری جانب اسلام آباد کے وکلاء کی ہڑتال چوتھے روز بھی جاری ہے۔ وکلاء کی جانب سے عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد بار کونسل کی جانب سے

وکلاء کو تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر وہ عدالتوں میں پیش ہوئے تو ان کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔ وکلاء کی ہڑتال کے باعث سائلین بھی سخت مشکلات سے دو چار ہیں، جبکہ سیاسی نوعیت کے اہم مقدمات بھی التوا کا شکار ہو گئے ہیں۔اسلام آباد بار کونسل کا موقف ہے کہ جب تک وکلاء کیخلاف مقدمات ختم کر کے انہیں رہا نہیں کیا جاتا،

تب تک عدالتوں کا بائیکاٹ جاری رکھا جائے گا۔ سی ڈی اے کی جانب سے گرائے گئے وکلاء کے چیمبرز دوبارہ تعمیر کرائی جائے جبکہ ڈی سی اسلام آباد اور متعلقہ سیشن جج کا تبادلہ بھی کیا جائے۔اسلام آباد ہائیکورٹ اور جوڈیشل کمپلیکس میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو عدالتوں تک رسائی نہیں دی جا رہی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…