اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

بی آر ٹی میں کچھ ہے تو اسکی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں صدرعارف علوی نے حمایت کردی، کھل کر بول پڑے

datetime 8  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)صدر عارف علوی نے کہا ہے کہ اگرحکومت کے خلاف کیسز ہیں تو نیب کے چیئرمین کو وہ کیسز چلانا بھی چاہئے،اگر بی آرٹی میں کچھ ہے تو اسکی تحقیقات بھی ہونی چاہئے،ملک کے حالات بہتر ہونے تک کفایت شعاری کرنی ہے ، اپنے گھر کے اخراجات

پہلے بھی میں خود اٹھاتا تھا ، آج بھی خود اٹھاتا ہوں ،ذاتی مہمانوں کے اخراجات بھی خود ہی اٹھاتا ہوں ، میرے پروٹوکول کا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا ،انفارمیشن ٹیکنالوجی میرا شوق ہے ، آئی ٹی کی ٹاسک فورس میرے ساتھ ہوتی ہے ۔ عورتوں کو وراثتی حقوق دلانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق ایک انٹرویو میں صدر مملکت کا کہنا تھا کہ مائنڈ سیٹ بدلنے میں بہت وقت لگتا ہے مگر خراب ہونے میں سیکنڈ بھی نہیں لگتے مگر پھر وقت لگ جاتا ہے ٹھیک ہونے میں ۔ صدر مملکت کا کہنا تھا کہ عورتوں ، بچوں کے حقوق جیسے معاملے میری اولین ترجیح ہیں یہی وجہ ہے کہ ہماری عورتوں کو وراثتی حقوق دلانے کے لئے کوششیں جاری ہیں جبکہ بچوں کی نگہداشت کے حوالے سے ہمیں ماں باپ کو انکریج کرناہوگا کہ وہ اپنے بچوں کی نگہداشت کے اندر اس بات کا خیال رکھیں اس کو آگاہ کریں کہ کوئی غلط کام اس سے یا کسی اورسے اس کے ساتھ نہ ہوسکے جبکہ بچے کو بھی چاہئے کہ وہ کوئی بھی غیر

معمولی واقعہ ہو ماں باپ کو اس سے آگاہ ضرور کرے ۔ اس سوال کہ نیب چیئرمین کی ویڈیو انویسٹی گیٹ ہونی چاہئے کے جواب میں صدر مملکت نے کہا اس کے اوپر نوٹس تو لیا گیا مگر ہوا کچھ نہیں میں سمجھتا ہوں کچھ ہونا بھی چاہئے تھا، نیب چیئرمین کے مبینہ بیان کہ اگر میں

نے حکومت کے خلاف کیسز کھولے تو یہ حکومت گرجائے گی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر عارف علوی نے کہاکہ نیب چیئرمین نے جو کہا اس کی ان کو ذمہ داری پوری کرتے ہوئے اگر وہ کہتے ہیں کہ کیسز ہیں تو پھر چلانا بھی چاہئے ۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے

حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں صدر مملکت نے کہا ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل رپورٹ سے متعلق غلط بیانات دیئے گئے ۔ اگر ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کہتی ہے کہ کہ کرپشن بڑھ گئی ہے تو میں اسے انڈی کیٹر سمجھتا ہوں ایک بڑی جنگ کا ،میں کچھ دن پہلے بھی وزیراعظم سے کہہ چکا ہوں کہ یہ جو کرپٹ اور غیر کرپٹ کے درمیان جنگ ہے یہ دو چار سال نہیں کئی کئی صدیوں چلی ہے اور کرپٹ ایلیٹ کو زمین پر لگانے میں صدیاں لگی ہیں ، پاکستان کے اندر بھی 10 سال کا عرصہ لگے گا کہ آپ کو کرپشن کو نیچے لانا پڑے گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…