اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

پاکستان چینی میں خودکفیل ، قیمت بھی کنٹرول میں آگئی شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت کو اہم مشورہ دیدیا

datetime 24  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)شوگر ملوں کا کرشنگ سیزن 15مارچ کو ختم ہو جائیگا ، روزنامہ جنگ میں حنیف خالد کی شائع خبر کے مطابق ایسوسی ایشن کے ذرائع کا کہنا ہے 15مارچ تک ملک کی 87شوگر ملیں 66لاکھ ٹن چینی پیدا کریں گی، اس لئے حکومت پاکستان کو چینی کی درآمد کی

پرائیویٹ سیکٹر کو اجازت دینے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ پاکستان چینی کے معاملے میں خودکفیل ہے اور اسکی قیمت بھی معقول سطح پر پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ملک میں چینی کی ضرورت 58لاکھ ٹن سے زیادہ نہیں ہے جبکہ سندھ ،پنجاب ،خیبر پختونخوا کی 87سے زائد شوگر ملیں اعلی معیار کی 66لاکھ ٹن چینی پیدا کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ عالمی معیار کی چینی ہے جس کی موجودگی میں مصر ،برازیل، تھائی لینڈ، دوبئی وغیرہ سے گندھک والی بھارتی چینی درآمد کرنے کی پاکستان کو غلطی نہیں کرنی چاہئے۔ جب ہمارے پاس 8لاکھ ٹن فاضل چینی کی پیداوار متوقع ہے تو حکومت کو مڈل مین کے گنا خریداری کے غیرقانونی مراکز کو کین کمشنر کو فوری بند کرانا چاہئے ورنہ چینی کے ایکس ملز ریٹ 82روپے کلو سے بڑھنے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں جس کی تمام تر ذمہ داری کین کمشنر پر عائد ہو گی۔ ذرائع کے مطابق پنجاب کے کین کمشنرزمان وٹو کا کہنا ہے کہ 15مارچ 2021

تک پچھلے سال سے 5لاکھ ٹن زیادہ چینی ملک کی 87شوگر ملوں میں تیار ہو گی ،اس لئے ڈیوٹی فری اور ٹیکس فری پانچ سے آٹھ لاکھ ٹن چینی درآمد کرنا درست فیصلہ نہیں ہو گا۔ دریں اثنا پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے کین کمشنر زمان وٹو سے درخواست کی ہے کہ وہ گنے کے مڈل مینوں کے غیرقانونی خریداری کے مراکز فوری بند کرائیں تاکہ شوگر ملوں کو دو سے تین سو روپے من تک گنا خریدنے کی نوبت پیش نہ آئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…