اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

زیادہ پیداوار کے باوجودآخر بجلی مہنگی کیوں کی گئی؟ پی ٹی آئی حکومت کی سنگین غفلت اور نااہلی کا انکشاف

datetime 24  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)گزشتہ دو برس میں اقتصادی سست روی، کوروناوائرس کی عالمی وبا کے پھیلائو اور ٹیرف اصلاحات میں نااہلی کی وجہ سے حکومت بجلی ٹیرف میں 1.95 روپے فی یونٹ بڑھانے پر مجبور ہوئی ہے۔ روزنامہ جنگ میں مہتاب حیدر کی شائع خبر کے مطابق

ذرائع نے بتایا ہے کہ سپلائی میں اضافے اور ٹیرف میں اصلاحات نہ لانے کے سبب حکومت کے پاس اور کوئی راستہ نہیں بچا تھا کہ وہ ٹیرف میں اضافہ کردے۔ جبکہ گزشتہ دو سال سے زائد عرصے کے دوران یہ پی ٹی آئی حکومت کی ذمہ داری تھی کہ وہ اصلاحات کرتی۔مجموعی صلاحیت چارجز 860 ارب روپے ہیں کیونکہ سرپلس پاور موجود ہے اور اس کے استعمال کی کوئی طلب نہیں ہے اور حکومت کو بجلی پیدا کرنے والوں کو صلاحیت چارجز ادا کرنا پڑرہے ہیں۔ ن لیگ دور حکومت میں بجلی کی فراہمی میں 10 ہزار سے 13 ہزار میگاواٹ نیشنل گرڈ میں اس بنیاد پر اضافہ کیا گیا تھا کہ ملک کی جی ڈی پی نمو اوسط 5 فیصد سالانہ بڑھے گی اور اسی طرح بجلی کی طلب میں بھی سالانہ 5 سے 8 فیصد اضافہ ہوگا۔ جب کہ ملک کی جی ڈی پی منفی 0.38 فیصد ہوگئی۔ معاہدے کے مطابق، حکومت کو سی پیک کے تحت تعمیر کیے گئے پاور پلانٹس سے پیدا ہونے والی بجلی خریدنی تھی۔ اعلیٰ عہدیدار کا کہنا تھا کہ حکومت نے

پاور ٹیرف میں 1.95 روپے فی یونٹ اضافہ 2019-20 کے بنیادی ٹیرف پر عمل درآمد کیلئے کیا ،کیونکہ یہ 13.35 روپے سے بڑھ کر 15.30 روپے فی یونٹ ہوچکا ہے اور ملک بھر میں مجموعی اوسط ٹیرف 16.50 روپے فی یونٹ ہے۔دوسری جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی

شہباز گل نے ٹوئٹر پر کہا ہے کہ اگر پاکستان کی GDPہر سال 7% بڑھی ہوتی تب بھی زیادہ سے زیادہ پاکستان کو 10,000میگاواٹ کے منصوبے درکار تھے۔ PMLN نے اپنا مال بنانے کے چکر میں 22,000 میگاواٹ کے اضافی بجلی بنانے کے منصوبوں کے کنٹریکٹ کر ڈالے۔

خود تو پیسہ بنا گئے لیکن عوام کو دنیا کی مہنگی ترین بجلی کے چکر میں پھنسا دیا۔سردیوں میں ہم تقریبا ً13 ہزار میگا واٹ استعمال کرتے ہیں اور 26ہزار میگاواٹ کے بغیر استعمال پیسے دیتے ہیں۔گرمیوں میں تقریباً 25 ہزار استعمال کرتے ہیں اور 11 ہزار کے بغیر استعمال پیسے دیتے ہیں۔حکومت کے پاس صرف دو آپشن، یہ گھاٹا بجلی مہنگی کر کے ادا کریں یا بیرونی قرضے لے کر۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…