اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کیخلاف ریفرنس میں نیب کو وعدہ معاف گواہ مل گیا،تفتیش میں ٹھیکیدار نے سب کچھ اگل دیا

datetime 21  جنوری‬‮  2021 |

کراچی(این این آئی)وزیراعلی سندھ مرادعلی شاہ کیخلاف ریفرنس میں نیب کووعدہ معاف گواہ مل گیا ہے۔ نیب کی تفتیش میں ٹھیکیدار امجد حسین نے اہم معلومات دی ہے۔ نیب نے مرادعلی شاہ کیخلاف مجموعی طور پر 125 گواہان تیار کرلئے ہیں۔دستاویزات کے مطابق پرائیویٹ

کنٹریکٹرامجدحسین وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں۔ انہوں نے نیب کو بتایا ہے کہ ٹیکنومین کائناٹکس نامی کمپنی کو بولی کے عمل میں ہیرا پھیری سے نوازا جاتا رہا۔ بولی کا عمل مکمل کرنے والی کمیٹی کے رکن اورممبر نیپرا محمود الحسن جانتے تھے کہ مراد علی شاہ سب کچھ کنٹرول کر رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ نوری آباد پلانٹس کو صرف 7کلومیٹرکی لائن سے حیسکو کے ساتھ ملایا جا سکتا تھا لیکن 85 کلومیٹر کی لائن کا ٹھیکہ دیکر کے الیکٹرک سے ملایا گیا۔ نیب ریفرنس کے مطابق وعدہ معاف گواہ سمیت کل 125 گواہان عدالت میں پیش ہوں گے۔نیب کی جانب سے ٹیکنو مین کائناٹکس نامی کمپنی کو مرادعلی شاہ کی منظور نظر بتایا گیا ہے۔ جے آئی ٹی رپورٹ میں اسی کمپنی کیجانب سے33 ملین ڈالر منی لانڈرنگ سے دبئی بھیجنے کا انکشاف بھی موجود ہے۔فرنٹ مین کا کردار ادا کرنے والے اسی کمپنی کے2 ڈائریکٹرزاعتراف جرم کے بعد 2.5 ارب روپے کی پلی بارگین کرچکے ہیں۔واضح رہے کہ نیب ریفرنس میں وزیراعلی

سندھ مرادعلی شاہ کیخلاف سنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں اورکرپشن کی 12 میں سے 5 شقوں کے تحت مراد علی شاہ کو مجرم ٹھہرایا گیا ہے۔ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ اومنی گروپ سے متعلق نوری آباد میں پاورپلانٹس لگانے کا منصوبہ بغیر فیزیبلٹی منظور کرایا گیا اور

قومی خزانے کے8 ارب روپے جھونک دیئے گئے۔ مراد علی شاہ نے بطور وزیر توانائی و خزانہ اختیارات کاغلط استعمال کیا اور عبدالغنی مجید منصوبہ ساز جبکہ مراد علی شاہ سہولت کار تھے۔مراد علی شاہ نے کابینہ کے سامنے اس منصوبے کو عوامی فلاح کا قرار دیا تھا۔ریفرنس میں یہ بھی

کہا گیا ہے کہ مراد علی شاہ نے بطور وزیر توانائی و خزانہ اختیارات کا غلط استعمال کیا اوراومنی گروپ کے ہی کنسلٹنٹ خورشید جمالی کے مشورے پر منصوبوں کا آغاز ہوا اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی آڑ میں 8 ارب روپے کے علاوہ 2 کمپنیوں کو 3 ارب روپے کا قرض مراد علی شاہ نے جاری کروایا۔ریفرنس میں سابق سیکرٹری توانائی آغا واصف بھی شریک ملزم نامزدکئے گئے ہیں۔ریفرنس میں نوری آباد پلانٹ کو کے الیکٹرک گرڈ سے ملانے کیلئے ٹرانسمیشن لائن کا ٹھیکہ بھی غیرشفاف بولی سیدینے کاالزام عائد کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…