پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

ملک بھر میں احتجاج کا اعلان، دھرنوں بارے بھی اہم ہدایات جاری

datetime 7  جنوری‬‮  2021 |

لاہور (آن لائن) شیعہ علماء کونسل پاکستان نے قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی ہدایت پر سانحہ گیشتری مچھ کے خلاف اور مظلوموں سے اظہار یکجہتی اور ان کے مطالبات پر عملدرآمد کیلئے بروز جمعہ 8جنوری کو ملک گیر احتجاج ہوگا۔ وفاقی دارالحکومت سمیت چاروں صوبوں بشمول کشمیر و گلگت بلتستان

احتجاجی پروگرام ہوں گے۔سیکرٹری جنر ل علامہ عارف واحدی نے کہا ہے کہ مطالبات تسلیم ہونے تک احتجاج جاری رہے گا۔انہوں نے کہا کہ قائد ملت جعفریہ کے حکم پر ملک بھر میں جمعہ کو ملک گیر یوم احتجاج کی کال دی ہے جب تک مطالبات تسلیم نہیں ہونگے احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا، حکومت وقت مصلحت کی بجائے اقدامات اٹھائے۔ اوردہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے فیصلہ کن اقدامات کرے۔شیعہ علما ء کونسل شمالی پنجاب کے صدرعلامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے جھنگ،فیصل آباد، شیخوپورہ اور لاہور کے احتجاجی دھرنوں شرکت کرکے کوئٹہ کے شہدائے کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کیا اور خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ پنجاب بھر میں شیعہ علماء کونسل قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی ہدایت کے مطابق احتجاجی ریلیاں نکالے جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ جن شہروں میں شیعہ علماء کونسل کے دھرنے جاری ہیں، وہاں لوگوں کو زیادہ سے زیادہ دھرنوں میں لاکر ان کو کامیاب بنائیں۔ اوردوسرے شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی جائیں۔ شیعہ علما کونسل ضلع لاہور کے صدر شوکت علی اعوان نے اعلان کیا ہے کہ آج نماز جمعہ کے بعد مساجد کے باہر احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے اوردھرنے میں شرکت کی جائے گی۔دوسری جانب نائب امیر جماعت اسلامی اور ملی

یکجہتی کونسل پاکستان کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے مچھ کے المناک حادثہ پر نہایت دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں مکمل ناکام ہو گئی ہے اور وزیراعظم انتہائی سنگدلی کا ثبوت دے رہے ہیں۔انھوں نے کوئٹہ دھرنا میں شریک رہنماؤں مولانا ہاشم موسوی، علامہ مقصود اور عبدالقیوم کاکڑ

سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے انھیں یقین دلایا کہ جماعت اسلامی جاں بحق کان کنوں کے لواحقین کے دکھ درد میں برابر کی شریک ہے اور اس ظلم کے خلاف ہر سطح پر احتجاج ریکارڈ کروایا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ماضی میں بھی جماعت اسلامی نے ہزارہ کمیونٹی کے خلاف دہشت گردی کے واقعات کی بھرپور مذمت کی ہے۔ لیاقت

بلوچ کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں لوگوں کے جان و مال کے تحفظ میں اب تک ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ہر کمیونٹی کو تحفظ فراہم کرے لیکن ایسا بالکل نظر نہیں آ رہا۔ وفاق کی ناک کے نیچے نوجوان کو قتل کر دیا گیا۔ گلیوں بازاروں، چوکوں چوراہوں میں معصوم لوگوں کا خون بہہ رہا ہے اور حکومت ہے

کہ مکمل غیر سنجیدگی اور غفلت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ عوام خوف اور ظلم کے سائے کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حکمرانوں کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ ان اسباب کا جائزہ لیتے ہوئے امن و امان کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…