جمعہ‬‮ ، 13 مارچ‬‮ 2026 

سعودی سائنسدانوں کا چل کر بجلی پیدا کرنے کا طریقہ ایجاد کرنے کا دعویٰ

datetime 10  دسمبر‬‮  2020 |

ریاض(این این آئی)سعودی عرب کے دو نوجوان سائنسدانوں نے بجلی پیدا کرنے کا ایک نیا اور انوکھا طریقہ ایجاد کرنے کا دعوی کیا ہے اور کہا ہے کہ پیدل چلنے سے ان ضرورت کے مطابق بجلی بھی پیدا کر سکتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق دونوں سعودی سائنسدانوں نے امریکی مرکز

ایجادات میں اپنا یہ نظریہ درج کیا ہے جس میں یہ خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ فرش کے نیچے رکھے چھوٹے پسٹنوں پر چل کر بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔یہ بجلی کے چھوٹے جنریٹرز سے جڑے ٹبوں میں مائعات یا گیسوں کی گردش سے پیدا کرسکتی ہے۔سعودی عرب کی شاہ عبد العزیز یونیورسٹی میں توانائی انجینیرنگ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر حسین باصی اور عبد العزیز یونیورسٹی میں میڈیکل انجیئرنگ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عبدالحمید الخطیب نے مشترکہ طور پر یہ تخیل پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کی آمدورفت یا ورزش کے لیے چلنے کی خواہش سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ اس طرح ضائع ہونے والی توانائی کی بچت کی جا سکتی ہے۔ڈاکٹر باصی نے عرب ٹی وی کو بتایا کہ بجلی کی کھپت ایک ایسی چیز ہے جو ہمارے ساتھ طویل عرصے تک جاری رہے گی لیکن مسئلہ اس توانائی کے ذرائع ، اس کے استعمال کے طریقوں اور اس کو پیدا کرنے کے طریقوں میں مضمر ہے۔ اب ہم توانائی کے ذرائع کو تنوع بخشنے کے عبوری

مرحلے میں جی رہے ہیں۔ معاشی اور ماحولیاتی وجوہ کی بنا پر قابل تجدید توانائی پر انحصار کرنے کی طرف بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ خیال قابل تجدید توانائی کے لیے اہم ہے کیونکہ اس کا انحصار ایک ناقابل تلافی ایندھن پر ہے۔ ہم چلتے جائیں اور بجلی پیدا ہوتی جائے۔انہوں نے

وضاحت کی کہ اس خیال کا مقصد سستی ، صاف توانائی پیدا کرنا ہے جو بجلی کی لوڈ شیڈنگ کو کم کرنے میں مدد فراہم کرے۔ بہت سی جگہیں ہیں جہاں اس خیال کو عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے۔ اسپتالوں میں کھیلوں میدان، واک وے ، بازاروں اور راہداریوں اور سڑکوں میں اس طریقے

سے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ نظریہ دو سال قبل انہوں نے پیش کیا تھا۔ لوگوں اجتماعی طور پر چلنے پھرنے کے مقامات پر مذکورہ طریقے سے بجلی پیدا کرنے طریقہ سامنے آیا۔ یہ خیال اس وقت آیا جب انسانی توانائی کو ضائع ہونے سے بچانے کے مختلف پہلوئوں پر سوچا جا رہا تھا۔ تب میرے دوست ڈاکٹر عبد الحمید الخطیب اور میں نے اس خیال سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں سوچ بچار شروع کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…