جمعرات‬‮ ، 21 مئی‬‮‬‮ 2026 

شکر ہے کہ میں غدار ہوں، مبشر لقمان کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بیان پرحامد میرکا بھی تہلکہ خیز ردعمل آگیا

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )حامدمیر نے مبشر لقمان کا اسرائیلی نیوز چینل کو دیے گیا ایک انٹرویو کا کلپ شیئر کرتے ہوے شدید تنقید ۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر سینئر اینکر پرسن حامد میر نے مبشر لقمان کو تنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مبشر لقمان نے بہت کھل کر اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی حمائت کی ہے ہم جیسے لوگوں کے لئے تو

یہ سوچنا بھی مشکل ہے کیونکہ ہمیں اقبال اور فیض نے یہ سمجھایا کہ پہلے فلسطین پھر کچھ اور ، اسی لئے مبشر لقمان مجھے اور جیو کو غدار کہتے رہےانکا یہ انٹرویو سنا تو شکر کیا کہ میں غدار ہوں۔ دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما اوروفاقی وزیر علی محمد خان صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان پر برس پڑے۔ نجی ٹی وی پروگرام میں مبشر لقمان کا اسرائیلی ٹی وی کو دئیے گئے انٹرویو کا کلپ چلایا گیا تو علی محمد خان نے کہا کہ مبشر لقمان کو شرم آنی چاہئے اور انہیں شرم سے ڈوب مرنا چاہئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح کی انہوں نے گفتگو کی ہے انہیں پاکستان میں کسی کو اپنا منہ نہیں دکھانا چاہئے۔ میں ان کی عزت کرتا تھا۔ آپ کون ہوتے ہیں یہ فیصلہ کرنے والے کہ اسرائیل ایک بہت اچھا ملک ہے، وہاں جو روز اسرائیلی ٹینکوں کے نیچے فلسطینیوں کے سر کچلے جاتے ہیں، ہمارا بیت المقدس اُن کے قبضے میں ہے تو یہ کس قسم کی باتیں کر رہے ہیں۔علی محمد خان نے کہا کہ میرے لیے فخر کی بات ہے کہ میرے وزیراعظم نے وہ بات کی جو ہر پاکستانی اور پر مسلمان کے دل کی آواز ہے، وہ یہ کہ جب تک مسئلہ فلسطین حل نہیں ہوتا تب تک ہم اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہیں۔ میرے لیے وزیراعظم سے زیادہ قائد اعظم کی بات کی اہمیت ہے، مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین اُن کے دل کے بہت قریب تھا، انہوں نے آن ریکارڈ یہ بات کی تھی کہ اسرائیل مغرب کا ناجائز بچہ ہے۔جب تک مسئلہ فلسطین حل نہیں ہوتا اور جب تک بیت المقدس سے قبضہ نہیں چھڑوایا جاتا، پاکستان کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…