اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

شکر ہے کہ میں غدار ہوں، مبشر لقمان کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بیان پرحامد میرکا بھی تہلکہ خیز ردعمل آگیا

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )حامدمیر نے مبشر لقمان کا اسرائیلی نیوز چینل کو دیے گیا ایک انٹرویو کا کلپ شیئر کرتے ہوے شدید تنقید ۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر سینئر اینکر پرسن حامد میر نے مبشر لقمان کو تنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مبشر لقمان نے بہت کھل کر اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی حمائت کی ہے ہم جیسے لوگوں کے لئے تو

یہ سوچنا بھی مشکل ہے کیونکہ ہمیں اقبال اور فیض نے یہ سمجھایا کہ پہلے فلسطین پھر کچھ اور ، اسی لئے مبشر لقمان مجھے اور جیو کو غدار کہتے رہےانکا یہ انٹرویو سنا تو شکر کیا کہ میں غدار ہوں۔ دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما اوروفاقی وزیر علی محمد خان صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان پر برس پڑے۔ نجی ٹی وی پروگرام میں مبشر لقمان کا اسرائیلی ٹی وی کو دئیے گئے انٹرویو کا کلپ چلایا گیا تو علی محمد خان نے کہا کہ مبشر لقمان کو شرم آنی چاہئے اور انہیں شرم سے ڈوب مرنا چاہئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح کی انہوں نے گفتگو کی ہے انہیں پاکستان میں کسی کو اپنا منہ نہیں دکھانا چاہئے۔ میں ان کی عزت کرتا تھا۔ آپ کون ہوتے ہیں یہ فیصلہ کرنے والے کہ اسرائیل ایک بہت اچھا ملک ہے، وہاں جو روز اسرائیلی ٹینکوں کے نیچے فلسطینیوں کے سر کچلے جاتے ہیں، ہمارا بیت المقدس اُن کے قبضے میں ہے تو یہ کس قسم کی باتیں کر رہے ہیں۔علی محمد خان نے کہا کہ میرے لیے فخر کی بات ہے کہ میرے وزیراعظم نے وہ بات کی جو ہر پاکستانی اور پر مسلمان کے دل کی آواز ہے، وہ یہ کہ جب تک مسئلہ فلسطین حل نہیں ہوتا تب تک ہم اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہیں۔ میرے لیے وزیراعظم سے زیادہ قائد اعظم کی بات کی اہمیت ہے، مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین اُن کے دل کے بہت قریب تھا، انہوں نے آن ریکارڈ یہ بات کی تھی کہ اسرائیل مغرب کا ناجائز بچہ ہے۔جب تک مسئلہ فلسطین حل نہیں ہوتا اور جب تک بیت المقدس سے قبضہ نہیں چھڑوایا جاتا، پاکستان کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…