جمعہ‬‮ ، 31 جولائی‬‮ 2026 

انکوائری میں آئی جی سندھ کااغواثابت نہیں ہوالیکن۔۔۔ سلیم صافی بھی کھل کر بول پڑے

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد،راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک، آن لائن)سینئر صحافی سلیم صافی نے ٹوئٹ کرکے  بتایا ہے کہ ”ذرائع کے مطابق انکوائری میں آئی جی کااغواثابت نہیں ہوالیکن نامناسب رویے کاذکرہے۔رینجر آفیسر سے مرادڈی جی رینجرزنہیں بلکہ متعلقہ بریگیڈئیر ہیں جبکہ آئی ایس آئی آفیسر بھی بریگیڈیررینک کے ہیں۔

آرمی چیف نے قابل ستائش قدم اٹھایاہے ،جس سے ریاستی اداروں کے اپنے دائرہ کارتک محدودرہنے میں مددملے گی”۔اس سے پہلے آئی ایس پی آر کا اعلامیہ شیئرکرتے ہوئے سلیم صافی نے لکھا کہ ” آرمی قیادت کا ایک مستحسن قدم۔۔۔کراچی میں کیپٹن(ر) صفدر کے معاملے پر آئی جی پولیس کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر آرمی کی انکوائری مکمل، آئی ایس پی آر کے مطابق آئی ایس آئی اور رینجر کے متعلقہ افسران کو ذمہ داریوں سے ہٹادیا گیا”۔واضح رہے کہ مسلم لیگ(ن) کے رہنما کیپٹن (ر)صفدر کی گرفتاری کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال اور اس پر آئی جی سندھ کے تحفظات کی تحقیقات کے لئے آرمی چیف قمر جاو ید باجوہ کی ہدایت پر کی جانیوالی انکوائری مکمل کرلی گئی ہے جس کی روشنی میں پاکستان رینجرز اور آئی ایس آئی کے متعلقہ افسران کو ان کے موجودہ عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے ۔آئی ایس پی آر کے مطابق 18 اکتوبر کے کراچی واقعہ کے سلسلے میں تحقیقات مکمل کر دی گئی ہیں ،18/19 اکتوبر کی

درمیانی رات پیش آنے والا واقعہ کی کورٹ آف انکوائری میں قرار دیا گیا ہے کہ پاکستان رینجرز(سندھ )اور آئی ایس آئی سیکٹر ہیڈ کوارٹر کراچی سے تعلق رکھنے والے متعلقہ افسران نے مزارقائد کی بے حرمتی کے پس منظر میں عوامی دبائو میں آ کر جذباتی طور پر کارروائی کی۔

ان پر عوامی دبائو تھا کہ قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنائی جائے ۔متعلقہ آئی ایس آئی اور رینجرز افسران نے تحمل و ذمہ داری کے بجائے ذاتی حیثیت میں جذبات میں آ کر اقدام اٹھایا ۔ان افسران کو ہوشیاری سے اس صورت حال نمٹنے کا کافی تجربہ تھا اور ناپسندیدہ صورت حال پیدا ہونے سے بچ سکتے تھے جو کہ دوریاستی اداروں کے درمیان غلط فہمی کا نتیجہ بنی ۔کورٹ آف انکوائری کی سفارشات کی روشنی میں فیصلہ کیا گیا کہ متعلقہ افسران کو ان کے موجودہ عہدوں سے ہٹایا جائے اور جی ایچ کیو میں مزید محکمہ جاتی کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Foot In The Door


خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…