ہفتہ‬‮ ، 20 جون‬‮ 2026 

کورونا سے متاثر بیشتر بچوں میں اکثر اس کا علم ہی نہیں ہوتا، تحق بغیر علامات والے مریض کسی برادری کے اندر بیماری کو خاموشی سے پھیلانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں،تحقیق میں انکشاف

datetime 4  ستمبر‬‮  2020 |

سیول(این این آئی )کورونا وائرس سے متاثر بچوں میں اس کی تشخیص بہت مشکل ہوتی ہے اور اکثر اس کا علم ہی نہیں ہوتا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ بات ایک نئی تحقیق میں سامنے آئی۔جنوبی کوریا میں کورونا وائرس سے 91 بچوں پر ہونے والی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ان میں سے 20 میں بالکل بھی علامات سامنے نہیں آئیں، 18 بچوں میں علامات شروع میں نہیں تھیں مگر بعد

میں نمودار ہوگئیں جبکہ 53 میں بیماری کا آغاز علامات سے ہی ہوا۔مگر ان میں سے بھی بیشتر میں کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کی شدت معمولی یا معتدل تھی۔تحقیق میں بتایا گیا کہ صرف ان بچوں کے کورونا ٹیسٹ ہوئے، جن میں علامات نظر آئیں تھیں جبکہ متعدد متاثرہ بچے اس عمل سے گزر نہیں سکے۔محققین نے تحقیق کے نتائج کے ساتھ جاما پیڈیاٹرکس میں ایک الگ مقالے میں بتایاکہ یہ اس تصور کی عکاسی کرتا ہے کہ متاثرہ بچے علامات یا اس کے بغیر بھی توجہ میں نہیں آئے ہوں گے اور انہوں نے اپنی معمول کی سرگرمیاں جاری رکھی ہوں گی اور ممکنہ طور پر اپنی برادری کے اندر وائرس کی گردش میں کردار ادا کیا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ایسے خطے جہاں فیس ماسک کا استعمال زیادہ نہیں کیا جارہا یا عام افراد ہی کررہے ہیں، بغیر علامات والے مریض کسی برادری کے اندر بیماری کو خاموشی سے پھیلانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔تحقیق میں بتایا گیا کہ بغیر علامات یا علامات والے متاثرہ بچے اوسطا 17 دن تک وائرس کو جسم سے خارج کرتے ہیں اور اس دوران دیگر تک پہنچا سکتے ہیںتحقیق کے مطابق بغیر علامات والے اوسطا 14 دن تک وائرس کو آگے پھیلا سکتے ہیں جبکہ یہ بھی دریافت کیا گیا کہ 50 فیصد سے زیادہ بچے 21 دن بعد بھی وائرس کو پھیلا رہے تھے۔اس تحقیق پر امریکا کے چلڈرنز نیشنل میڈیکل سینٹر کی لیبارٹری میڈیسین کی سربراہ میگن ڈیلانے کا کہنا تھا کہ تحقیق اس خیال کو تقویت پہنچاتا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثر ایسے بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جن میں علامات نظر نہیں آئیں یا وہ علامات سے پہلے کے دور سے گزر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جنوبی کورین تحقیق میں ماہرین یہ جاننے میں کامیاب رہے کہ ہوسکتا ہے کہ بچے گھر میں تندرست ہوں مگر ان میں سے کچھ وائرس سے متاثر ہوسکتے ہیں، جن میں سے کچھ میں علامات نظر آتی ہیں جبکہ بیشتر میں ایسا نہیں ہوتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…