منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ڈاکٹرعبدالمالک نے سر درد کی بیماریوں کے سند یافتہ پہلے پاکستانی معالج ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا

datetime 24  اگست‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)کراچی کے ماہر امراض دماغ و اعصاب (ایسوسی ایٹ پروفیسر نیورولوجی)ڈاکٹرعبدالمالک سر درد کی بیماریوں کے سند یافتہ پہلے پاکستانی معالج بن گئے، ڈاکٹرعبدالمالک نے یونیورسٹی آف کوپن ہیگن سے”ہیڈایک ڈس آرڈرز” میں ماسٹرزکی ڈگری حاصل کرلی۔ ڈاکٹر عبدالمالک سے قبل پاکستان میں سردرد کے علاج کا کوئی مستند ڈگری یافتہ ماہر ڈاکٹرنہیں تھا۔ڈاکٹر عبدالمالک کے مطابق

پاکستانیوں کی اکثریت جنہیں سر درد کی شکایت رہتی ہے وہ درد شقیقہ (مائیگرین) سے متاثر ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق دس فیصد پاکستانی مائیگرین کا شکار ہیں لیکن ہر سر درد مائیگرین نہیں ہوتا، اس لیے سیلف میڈیکیشن سے گریز کرنا چاہیے۔ڈاکٹر عبد الملک کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں سردرد کو روزمرہ زندگی کا حصہ سمجھ لیا گیا ہے اور اس کا واحد علاج درد کش ادویات کو ہی سمجھا جاتا ہے، مریض کو طویل عرصے تک درد کش ادویات نہیں لینی چاہئیں کیونکہ ان ادویات کا زیادہ استعمال سر درد سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے اور درد کش ادویات کا زیادہ استعمال دیگر امراض کا باعث بن سکتا ہے جب کہ یہ گردوں اور جگر کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالمالک نے کہا کہ مستقل سر درد کی شکایت کے باوجود پاکستانیوں کی اکثریت اسے سنجیدہ نہیں لیتی ہے۔ تین ہفتوں کے دوران ہر ہفتے دو سے زائد مرتبہ سردرد کی صورت میں اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ کراچی کے ماہر امراض دماغ و اعصاب (ایسوسی ایٹ پروفیسر نیورولوجی)ڈاکٹرعبدالمالک سر درد کی بیماریوں کے سند یافتہ پہلے پاکستانی معالج بن گئے، ڈاکٹرعبدالمالک نے یونیورسٹی آف کوپن ہیگن سے”ہیڈایک ڈس آرڈرز” میں ماسٹرزکی ڈگری حاصل کرلی۔ ڈاکٹر عبدالمالک سے قبل پاکستان میں سردرد کے علاج کا کوئی مستند ڈگری یافتہ ماہر ڈاکٹرنہیں تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…