منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں کرونا ویکسین صرف کتنے ماہ  میں دستیاب ہو گی ؟ ڈاکٹر عطا الرحمان کا بڑا اعلان

datetime 21  اگست‬‮  2020 |

لاہور( آن لائن )سربراہ کورونا ٹاسک فورس ڈاکٹر عطا الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں ویکسین 6 سے 8 مہینے میں دستیاب ہوگی، پاکستان میں دو چینی کمپنیاں جلد انسانوں پرٹرائل شروع کررہی ہیں، ان ویکسین کے ٹرائل کے نتائج کیلئے مزیدتین مہینے انتظار کرنا پڑے گا، دسمبرمیں ٹرائلزکے نتائج آئیں گے، اس کے بعد ویکسین کے کامیاب ٹرائل بارے کچھ کہا جاسکتا ہے۔اس حوالے سے

سربراہ کورونا ٹاسک فورس نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ دنیا میں 150کمپنیاں ویکسین بنا رہی ہیں، ان میں 50 ایسی کمپنیاں ہیں جن کی ویکسین کی کے کلینکل ٹرائل کا مرحلہ جاری ہے، کورونا کی ساخت کو دیکھ کر ویکسین بنانے کے مختلف طریقے ہیں۔ پاکستان میں ابھی تک کسی بھی شہر میں ٹرائل شروع نہیں ہوئے، ٹرائل جلد شروع ہونے جا رہے ہیں، ہمیں ٹرائل کے نتائج کیلئے تین مہینے مزید انتظار کرنا پڑے گا۔دسمبر تک ان ٹرائلزکے نتائج کے بارے حتمی کہنا غلط ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کا اب بھی بڑا خطرہ ہے، کورونا اپنی شکل تبدیل کررہا ہے ، کراچی یوینورسٹی میں اس کی ساخت پر ریسرچ کی گئی ہے تو پتا چلا ہے کہ کورونا وائرس ہر دو تین ہفتے بعد اپنی شکل تبدیل کررہا ہے، اس کی خطرناک صورتحال ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے ہفتوں میں کیسز کم تھے لیکن اب تعداد بڑھ کر واپس 600 یا 700 تک ہوچکی ہے۔کورونا وائرس کی دوسری لہر پہلے کی نسبت خطرناک ہوتی ہے، کیونکہ وائرس اپنی شکل تبدیل کرچکا ہوتا ہے۔ دوسری جانب نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) میں ہونے والے اجلاس میں کورونا کی صورت حال اور محرام الحرام میں احتیاطی تدابیر کے حوالے سے غور کیا گیا۔اسلام آباد میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی اوراین سی او سی کے سربراہ اسد عمر کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں کوروناوائرس کی تازہ ترین صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں محرم الحرام سے متعلق مختلف مکاتب فکرکے ساتھ رابطوں پر گفتگو کی گئی۔خیال رہے کہ ملک بھر میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 2 لاکھ 90 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے جب کہ اب تک 6 ہزار 209 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔این سی اوسی کی جانب سے پہلے ہی خبردار کیا جاچکاہے کہ محرم الحرام میں کورونا سے متعلق ضابطہ کار(ایس اوپیز) پر عمل نہ کرنے سے کیسز بڑھ سکتے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…