اسلام آباد(نیوزڈیسک)ایم کیو ایم کو بی بی سی کی رپورٹ سے ایک اور جھٹکا لگاہے، صرف ایک ہفتہ میں یہ اس کیلئے تیسرا دھماکا ہے، رپورٹ میں ایم کیو ایم کو بھارتی فنڈنگ اور اس کے کارکنوں کی وہاں تربیت کے حوالے سے ویسے ہی الزامات لگائے گئے ہیں جن کو پاکستانی حکام برسوں سے کئی بار دُہرا چکے ہیں، جیسا کہ اکثر ہوتا ہے، پاکستانی حکام کے الزامات کو شواہد کی کمی اور سیاسی قرار دے کر اکثر زیادہ اہمیت نہیں دی گئی مگر جب یہ سب کچھ ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارہ کرے تو اس کو خاصی اہمیت دی جاتی اور قابل بھروسہ و قابل ایکشن قرار دیا جاتا ہے۔ بی بی سی رپورٹ کا وقت انتہائی اہم ہے، ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت کے حوالے سے برطانوی حکام کے سامنے پیشی سے تین ہفتہ قبل نشر کی گئی، بی بی سی رپورٹ کو ایم کیو ایم نے خودساختہ (ٹیبل اسٹوری) اور میڈیا ٹرائل قرار دیا ہے مگر پاکستان میں خطرے کی گھنٹی بجا دی جب اس نے کہا کہ ایم کیو ایم بھارت سے فنڈ لینے کے الزام کا جواب نہیں دے گی، یہ ہی سوال بھارت سے کیا گیا اس نے بھی جواب نہیں دیا، برطانوی حکام نے ایم کیو ایم کی ملکیت عمارتوں سےہتھیاروں کی فہرست بھی برآمد کی تھی، یہ ہتھیار ممکنہ طور پر کراچی میں استعمال ہوئے، رواں سال 30 اپریل کو سینئر پولیس افسر رائو انوار نے رپورٹرز کے سامنے دو مبینہ دہشت گردوں کو پیش کیا تھا جو بقول ان کے ایم کیو ایم کے کارکن تھے، انہوں نے الزام لگایا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے خلاف سرگرم ہے اور ایم کیو ایم کے رہنمائوں کے ’’را‘‘ سے رابطے ہیں گرفتار کارکنوں نے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سے تربیت حاصل کی تھی، ان کے پاس ثبوت موجود ہیں۔ ایم کیو ایم کے سخت دبائو کے باعث سندھ حکومت نے یہ الزامات لگانے پر رائو انوار کو معطل کر کے عہدے سے ہٹا دیا تھا، صرف ایک روز قبل وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ایم کیو ایم کو جھٹکا دیا تھا جب انہوں نے اعلان کیا تھا کہ حکومت نے اسکاٹ لینڈ یارڈ کو محسن علی تک رسائی دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کو ایف آئی اے نے چند ہفتہ قبل کراچی سے گرفتار کیا تھا اس پر ستمبر 2010ء میں ڈاکٹر عمران فاروق کے دو مبینہ قاتلوں کو برطانوی کالج میں داخلے اور ویزے کیلئے فنڈز اور سہولت فراہم کرنے کا الزام ہے، اگرچہ سرکاری طور پرنہیں بتایا گیا مگر خیال کیا جاتا ہے کہ محسن علی نے دو ملزمان کو لندن جانے کیلئے ویزے اور فنڈز فراہم کرنے کا اعتراف کر لیا ہے، تیسری بری خبر ایم کیو ایم کو 18 جون کو ملی تھی جب فرنٹیئر کور (ایف سی) نےڈاکٹر عمران فاروق کے دو مبینہ قاتلوں محسن اور خالد شمیم کو گرفتار کرلیا جو قتل کے بعد سری لنکا سے ہوتے ہوئے پاکستان واپس آئے تھے، کہا جاتا ہے کہ پاکستانی حکام نے ان افراد کو اس وقت کراچی ایئرپورٹ سے گرفتار کیا تھا، تاہم ایف سی کا کہنا ہے کہ ان افراد کو چمن بارڈر پر افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔ انہیں ایف آئی اے کے حوالے کر دیا گیا، معاملات آگے بڑھ رہے ہیں اور ایم کیو ایم کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے، امکان ہے کہ برطانوی تفتیش کاروں کو عمران فاروق قتل کیس میں ان دو افراد سے تفتیش کی اجازت دے دی جائے
بی بی سی کی رپورٹ، ایم کیو ایم کوایک ہفتہ میں تیسرا جھٹکا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)
-
دنیا کے طاقتور اور کمزور پاسپورٹس کی فہرست جاری، سنگاپور کا پہلا نمبر، پاکستان کی حیرت انگیز پوزیشن
-
سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی
-
190 ملین پاؤنڈ کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی سزا معطلی درخواست پر فیصلہ سنادیا
-
بہت جلد پٹرول قیمتوں میں کمی کا عندیہ
-
سرکاری ملازمین کو ایڈوانس تنخواہیں دینے کا نوٹیفکیشن جاری
-
راولپنڈی،ہوٹل میں متعدد بار زیادتی کے بعد خاتون حاملہ، پیدا ہونے والی بچی بھی چھین لی گئی
-
جمائمہ کے ’دوسرے شوہر کیمرون ‘کون ہیں؟ دونوں کی ملاقات کیسےہوئی؟ اہم تفصیلات منظرعام پر
-
چودھری پرویز الہٰی پیپلز پارٹی میں شمولیت کی خبروں پر بول پڑے
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
ٹرمپ نے اپنی اور کابینہ ممبرز کی نیم برہنہ تصویر پوسٹ کردی
-
سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بھی کمی
-
اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے
-
معروف اداکار کی سیاسی جماعت بازی لے گئی



















































