اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

چین نے کرونا وائرس کو قابو میں رکھنے کے بجائے لاکھوں متاثرین اور چینی باشندوں کو طیاروں میں سوار کر کےکہاں کہاں بھیجا؟امریکہ نے ایک اور سنگین الزام لگا دیا

datetime 19  مئی‬‮  2020 |

واشنگٹن (این این آئی)وائٹ ہاؤس میں تجارتی مشیر پیٹر نیوارو کا کہنا ہے کہ چین نے جان بوجھ کر بیجنگ اور شنگھائی کو محفوظ رکھتے ہوئے کورونا کے متعدی وائرس کو دنیا بھر میں پھیلنے دیا۔ نیوارو کے مطابق اس وائرس کو ووہان شہر میں ہی روکا جا سکتا تھا۔اپنے ایک انٹرویو میں امریکی مشیر نے کہا کہ چین نے اس وائرس کو عالمی ادارہ صحت کی ڈھال کے پیچھے چھپائے رکھا۔ چین نے اس وائرس کو قابو میں رکھنے کے بجائے لاکھوں متاثرین اور چینی باشندوں

کو طیاروں میں سوار کر کے میلان، نیویارک اور دیگر شہروں کو بھیج دیا۔ چین نے ان افراد کو بیجنگ اور شنگھائی نہیں بھیجا۔ایک سوال کے جواب میں پیٹر نیوارو نے اس بات کو حقیقت قرار دیا کہ چین نے وائرس سامنے آنے کے بعد بہت سی اندرونی پروازیں تو روک دیں مگر بین الاقوامی پروازوں کو سفر کی اجازت جاری رکھی .. اس کا مطلب ہے کہ چین اس خطرے کے عرصے کو جان چکا تھا اس نے امریکا کے لیے اپنی کئی دیگر برآمدات کے ساتھ ساتھ وائرس برآمد کرنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…