منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کا وہ شہر جہاں کرونا وائرس تیزی کیساتھ پھیلنے لگا ، مریضوں کی تعداد عروج پر پہنچ گئی

datetime 4  مئی‬‮  2020 |

لاڑکانہ(این این آئی)صوبائی وزیر آبپاشی و عشر زکواۃ اور فوکل پرسن برائے کورونا وائرس ضلع لاڑکانہ سہیل انور سیال نے اپنے جاری کردہ ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ لاڑکانہ میں کورونا کے 14 افراد صحتیاب ہوچکے جن میں 13 تبلیغی اور ایک شہری شامل ہے لیکن اس کے باوجود لاڑکانہ میں کورونا وائرس تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے نتیجے میں ایک فوتگی بھی ہوئے، انہوں نے کہا کہ فوت ہونے والے

روشن کنبھر کے 15 لواحقین بھی کورونا وائرس میں مبتلا ہوگئے ہیں، کچھ پازیٹو آنے والے متاثرین ضلعی انتظامیہ کو آگاہ نہیں کرتے جو خطرناک بات ہے، اس وقت بھی لاڑکانہ میں روزانہ کے بنیاد پر 16 سے 17 کیسز پازیٹو آرہے ہیں، انہوں نے کہا کہ چن روز قبل لاڑکانہ کا رہائشی کورونا پازیٹو شخص کراچی سے یہاں رشتہ داروں کے ساتھ ملنے آیا جس کے بعد ان سے رابطے میں رہنے والوں کے سیمپل لیے گئے ہیں اللہ نہ کرے کہ ان کے ٹیسٹ پازیٹو آئیں، انہوں نے کہا کہ ہمارے پڑھے لکھے لوگ کورونا وائرس پازیٹو آنے کے بعد نہیں سوچتے اور ایسے ہی اپنے رشتہ داروں کے ساتھ میل جول رکھتے ہیں جنہیں احتیاط کرنے کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ تنقید چل رہی ہے کہ لاک ڈائون کو ختم کرکے کاروبار اور ٹرانسپورٹ کو کھولا جائے لیکن لاڑکانہ میں صورتحال خراب ہے اس لیے یہ ممکن نہیں، صوبائی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ جن ممالک میں کیسز کم ہوئے ہیں وہاں کاروبار کھولا گیا ہے اگر ہمارے ہاں کرونا وائرس پر کنٹرول کیا گیا تو یہاں بھی کاروبار کھل سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم اگر کورونا وائرس سے احتیاط نہیں کریں گے تو اس کی سزا ہمارے پیارے اور پڑوسی بھگتیں گے، انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے گھروں تک محدود رہیں تاکہ لاک ڈائون کو کامیاب بناکر عام زندگی کو معمولات پر لایا جاسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…