اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

برطانیہ میں پاکستانی برادری کو کورونا سے زیادہ خطرہ ، نئی تحقیق میں ہوشربا انکشافات

datetime 3  مئی‬‮  2020 |

لندن(این این آئی) ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ برطانیہ میں موجود پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں کے دیگر وائٹ برطانویوں کے مقابلے میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے اور مرنے کے زیادہ خطرات ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق برطانیہ میں 7 پاکستانی ڈاکٹرز کی ہلاکت کے بعد انسٹیٹیوٹ آف فسکل اسٹڈیز کی ایک نئی جامع تحقیق میں انکشاف کیا گیا کہ پاکستان نژاد برطانوی اور برطانوی سیاہ فام افریقیوں کی کورونا وائرس سے ہلاکت کی شرح سفید فام کی آبادی کے مقابلے میں 2.5 گنا زیادہ ہے۔

لندن اسکول آف اکانومکس کے پروفیسر لوسنڈا پلیٹ، توس وارسک کی مرتب کردہ مشترکہ رپورٹ، پبلک ہیلتھ انگلینڈ کی جانب سے اکٹھا کیے گئے ڈیٹا کے تجزیہ میں کہا گیا کہ کورونا وائرس کے تمام ذاتوں پر ایک جیسے اثرات نہیں ہیں۔اس کے کچھ اہم نتائج کے مطابق بلیک کیریبین آبادی کی فی فرد ہسپتال میں کورونا وائرس سے اموات سب سے زیادہ ہیں اور گورے برطانوی اکثریت سے ان کی اموات کی تعداد تین گنا زیادہ ہیں، اس کے علاوہ کچھ اقلیتی گروہوں جن میں پاکستانی اور فام سیاہ افریقی شامل ہیں، آبادی کی اوسط سے فی فرد ہسپتال میں ہلاکتوں کی تعداد اتنی ہی دیکھی گئی ہے، جبکہ بنگلہ دیشی اموات کم رہیں۔مزید کہا گیا کہ جب عمر اور جغرافیے کو مدنظر رکھا جائے تو، زیادہ تر اقلیتی گروہوں کو گورے برطانوی اکثریت کے مقابلے میں فی فرد کم اموات ہونا چاہیے تھی۔بیشتر اقلیتیں مجموعی طور پر آبادی سے اوسطا کم عمر بھی ہیں جو انہیں کم خطرناک بناتا ہے تاہم پھر بھی تصدیق شدہ کیسز اور اموات ایک الگ کہانی بتاتی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ سیاہ فام افریقیوں اور پاکستانیوں کی فی فرد ہلاکتوں کی تعداد گورے برطانویوں کے مقابلے میں کم ہونے کی امید کی جانی چاہیے تھی تاہم فی الحال وہ موازنہ کے قابل ہیں۔اس سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ گھریلو اندر آمدنی کو بڑھاوا دینے کے امکانات شراکت داروں کے روزگار کی شرحوں پر منحصر ہوتے ہیں ، جو پاکستانی اور بنگلہ دیشی خواتین کے لئے بہت کم ہیں۔رپورٹ میں ان حیرت انگیز نتائج کو ایک گراف میں دکھایا گیا ہے جس میں بتایا گیا جس میں کہ برطانیہ میں 12 لاکھ پاکستانی آبادی کے مقابلے میں 4 کروڑ 23 لاکھ آبادی والے گورے برطانوی لوگوں کی ہسپتال میں اموات کافی کم ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…