بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

سیو دی چلڈرن پر پابندی ختم کیوں کی گئی؟ اسلام آبادہائیکورٹ میں اہم انکشافات

datetime 18  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)سیو دی چلڈرن پر پابندی ختم کیوں کی گئی؟ اسلام آبادہائیکورٹ میں اہم انکشافات- غیر ملکی این جی او ‘سیو دی چلڈرن سے پابندی ہٹائے جانے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔شہداءفاو±نڈیشن کی جانب سے سیو دی چلڈرن سے پابندی ہٹائے جانے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت جسٹس عامر فاروق نے کی۔دوران سماعت شہداءفاو±نڈیشن کے وکیل طارق اسد نے موقف اختیار کیا کہ غیرملکی این جی او کو ملکی مفاد کے خلاف سرگرمیوں پر کام کرنے سے روکا گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ سیو دی چلڈرن کو دوبارہ کام کی اجازت دینا غیر قانونی ہے۔عدالت سے استدعا کی گئی کہ آئی ایس آئی، آئی بی سے این جی او کی سیکیورٹی کلیرنس سے متعلق رپورٹ طلب کی جائے۔عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔شہداء فاو±نڈیشن کی جانب سے دائر درخواست میں وفاقی وزارت داخلہ، آئی ایس آئی، آئی بی، ضلعی انتظامیہ اور وفاق کو فریق بنایا گیا۔ یاد رہے کہ 6 روز قبل ‘پاکستان مخالف سرگرمیوں’ پر بین الاقوامی امدادی گروپ سیو دی چلڈرن پر پاکستان میں پابندی عائد کی گئی تھی جبکہ اسلام آباد میں مارگلہ روڈ پر واقع ان کا دفتر بھی سیل کردیا گیا تھا۔حکومتی اہلکار کامران چیمہ نے دفتر سیل کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے ایک نوٹیفیکیشن موصول ہوا جس میں اس دفتر کو سیل کرنے اور اس کے اسٹاف کو 15 روز کے اندر اپنے ممالک واپس بھیجے کے احکامات تھے۔البتہ 3 روز قبل حکومت نے ایک ہنگامی نوعیت کے نوٹیفکیشن کے ذریعے غیرسرکاری ادارے سیو دی چلڈرن پر پابندی کا حکم واپس لیا۔وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے اس نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ سیو دی چلڈرن کی سرگرمیاں روکنے سے متعلق پہلے جاری کیا جانے والا حکم منسوخ ہوگیا ہے، اور اب اگلے حکم تک یہ این جی او کو پاکستان میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…