منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

قبر میں بھی سکون نہیں ملے گا، قبر کھودنے کی پرچی کی قیمت میں اضافہ،قبر کھودنے کی پرچی کی قیمت 3000ہزار سے بڑھا کر 12000ہزار روپے کر دی گئی

datetime 20  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)معروف تجزیہ نگار عارف حمید بھٹی نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان صاحب نے اب تو مرنا بھی مشکل کر دیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ قبر کھودنے کی پرچی جو کہ 3000 روپے کی بنتی تھی، مہنگی ہو کر 12000 روپے کی ہو گئی ہے۔قبل ازیں قبروں کی فیس میں 100 فیصد اضافہ، قبرستان میںگورکن مافیا قابضایک قبرکی الاٹمنٹ کے عوض قیمت دس ،

20 یا پچاس ہزار نہیں بلکہ کتنیوصول کی جا رہی ہے، رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے ،کراچی میں قبروں کی فیس میں 100 فیصد اضافہ کر دیا گیا۔بلدیہ کراچی کے تمام قبرستان گورکن مافیا کے حوالے کر دیے گئے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں بلدیہ کراچی کے زیر انتظام 100 سے زائد قبرستانوں کو گورکن مافیا کے پاس رہن رکھوا دیا گیا ہے، ایک درجن سے زائد قبرستانوں میں تدفین پر پابندی کے باوجود یہاں قبروں کی نیلامی کا عمل جاری ہے، بلدیہ کراچی نے قبر کی الاٹمنٹ کی فیس 4500 روپے بمع میٹریل کی تھی اب اس میں 100 فیصد اضافہ کر کے فیس 9000 روپے کر دی گئی ہے مگر حیرانگی کی بات یہ ہے کہ اس فیس کے عوض شہریوں کو صرف گورکن کی پرچی ملتی ہے۔ قبر کی الاٹمنٹ کے لیے شہریوں کو قبرستانوں میں قابض گورکن مافیا کی بولی کے مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے۔ شہر میں سب سے مہنگا قبرستان سوسائٹی قبرستان ہے جہاں قبر 40 ہزار سے 70 ہزار میں بک کی جاتی ہے حالانکہ یہاں تدفین پر 1999 سے پابندی عائد ہے۔ شہر کے ایک اہم قبرستان میں جوکہ پاپوش میں واقع ہے بلدیہ کراچی افسران کا کہنا ہے کہ یہاں گورکن مافیا داخل بھی نہیں ہونے دیتا یہاں مکمل طور پر گورکن مافیا کا راج ہے۔ یہاں قبر 25 ہزار سے 50 ہزار تک فروخت کی جاتی ہے۔ سخی حسن قبرستان میں بھی 30 ہزار سے 60 ہزار تک قبر نیلام کی جاتی ہے۔ میوہ شاہ اور مواچھ گوٹھ قبرستانوں میں 20 سے 40 ہزار تک قبر فروخت ہو رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…