بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

158ارب روپے قومی خزانے میں جمع ،جانتے ہیں اتنی بڑی رقم کہاں سے آئی؟

datetime 16  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)چیئر مین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہاہے کہ میگاکرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے،غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیز/ کوآپریٹو سوسائٹیز سے قوم کی لوٹی گئی رقوم کی واپسی کے لئے قانون کے مطابق اقدامات کئے جارہے ہیں۔

وہ نیب ہیڈ کوارٹرز میں نیب ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔ اجلاس میں ڈپٹی چیئرمین نیب، پراسیکیوٹر جنرل اکائونٹبیلیٹی، ڈی جی نیب آپریشن ڈویژن اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں بدعنوانی کے مختلف ریفرنسز، انویسٹی گیشنز اور انکوائریوں کی منظوری دی گئی۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ میگاکرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے۔ نیب نے گزشتہ 28 ماہ میں 630 مقدمات میں بدعنوانی کے ریفرنس مختلف احتساب عدالتوں میں دائر کئے ہیں۔ نیب کے اس وقت 1275 بدعنوانی کے ریفرنسز ملک کی 25 مختلف احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جن کی مالیت تقریباً 943 ارب روپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے گزشتہ 28 ماہ میں 158 ارب روپے بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر بدعنوان عناصرسے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی احتساب عدالتوں میں سزا دلوانے کی شرح تقریباً 70 فیصد ہے ۔ انہوںنے کہاکہ نیب کی کارکردگی کو معتبر قومی اور بین الاقوامی اداروں نے اپنی رپورٹس میں سراہا ہے جو نیب کے لئے اعزاز کی بات ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…