منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

قومی سلامتی کونسل کو ملک کے آئین میں مستقل جگہ دینے کی ضرورت ہے ،پرویز مشرف

datetime 16  جون‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک)سابق صدرِ پاکستان جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کونسل کو ملک کے آئین میں مستقل جگہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بحران کے موقع پر اُس سے ایک باقاعدہ اور مناسب ادارے کی حیثیت سے کام لیا جاسکے۔یہ بات انہوں نے امریکی ایوارڈ یافتہ میگزین ساو ¿تھ ایشیا کے جون 2015 ءکے شمارے میں شائع کردہ ایک خصوصی انٹرویو میں کہی۔اس سوال کے جواب میں کہ پاکستان میں فوج کو اقتدار سنبھالنے سے روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں، جنرل (ر) مشرف نے کہا ”اس کے لیے ضروری ہے کہ سویلین حکومتیں عوام کی فلاح اور ریاست کی ترقی کو یقینی بنائیں اور بد انتظامی کے خلاف آئینی جانچ پڑتال کے طریقے نافذ ہوں۔ ایسے حالات میں فوج اپنے اصل کام یعنی خارجی و داخلی خطرات سے تحفّظ کی فراہمی کی طرف توجہ مرکوز کر سکتی ہے۔“ سابق صدر نے کہا کہ این ایس سی کے مسلسل فعال رہنے اور قومی مسائل پر بحث کرنے کے لیے باقاعدہ بنیادوں پر ملنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ، لیکن بحران کے حالات میں وہ مزید مفید کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ این ایس سی کے علاوہ فوج کو اپنا کردار آئین کے عین مطابق ادا کرنا چاہیے اور سیکشن 245 کے تحت جب اُنھیں سویلین حکومت کی مدد کے لیے طلب کیا جائے تو وہ آئین کے مطابق عمل کریں۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا ریاستی معاملات کے ضمن میں فقط سویلین حکومت پر اعتماد کیا جانا چاہیے، پرویز مشرف نے کہا کہ ایسا اُس صورت میں کیا جاسکتا ہے جب سویلین حکومت اپنا کام پورا کرے۔ اُن کی رائے میں پاکستانی عوام نے ملک کی تاریخ میں بدقسمتی سے کسی بھی سویلین حکومت کو اخلاص کے ساتھ کام کرتے ہوئے نہیں دیکھا، اور اس وجہ سے اُن کا اعتماد متاثر ہوا۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا سیاستدان ہمیشہ بحران کے وقت فوج کی طرف رجوع کرتے ہیں، پرویز مشرف نے کہا کہ ایسا ہمیشہ نہیں بلکہ کبھی کبھی ہوتا ہے۔ اصل میں بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ فوج کئی معاملات سے بہتر انداز میں نمٹ سکتی ہے۔اُن کے مطابق یہ رجحان 90 ءکی دہائی میں زیادہ رائج تھا۔ اُن کے خیال میں ماضی میں لوگوں کی بڑی تعداد نے متعدد مُلکی بحرانوں بشمول سیاسی بحرانوں میں فوج کی طرف رجوع کیا



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…