جمعہ‬‮ ، 12 جون‬‮ 2026 

پاکستان میں مہنگائی کی شرح 9 سال کی بلند ترین سطح 12.7 فیصد تک جا پہنچی،انتہائی تشویشناک انکشافات

datetime 5  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) ملک میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 9 سال کی بلند ترین سطح 12.7 فیصد تک جاپہنچی۔پاکستان ادارہ شماریات (پی بی ایس) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کی بنیاد پر لیے گئے جائزے کے مطابق گزشتہ ماہ مہنگائی میں 1.3 فیصد اضافہ ہوا۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ پی بی ایس نے حساب کتاب کے طریقہ کار میں تبدیلی کرتے ہوئے 08-2007 کے بجائے 16-2015 بیس ایئر مقرر کیا تھا۔

دوسری جانب وزارت خزانہ سے جاری تفصیلی بیان میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ آئندہ ماہ سے مہنگائی کی شرح میں کمی ا?نا شروع ہوجائے گی تاہم یہ کس طرح ہوگا اس کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔اس سلسلے میں جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق مجموعی مہنگائی میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ نومبر میں مہنگائی کا بڑا سبب بنا۔سالانہ اعتبار سے ماہ نومبر میں شہری علاقوں میں اشیائے خوراک کی قیمتوں میں 16.6 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ماہانہ اعتبار سے یہ اضافہ 2.4 فیصد رہا، اسی طرح دیہی علاقوں میں سالانہ اعتبار سے مہنگائی میں 19.3 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ ماہانہ بنیاد پر یہ اضافہ 3.4 فیصد رہا۔شہری علاقوں میں جن اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ان میں ٹماٹر (149.41 فیصد)، دال ماش (11.72 فیصد)، دال مونگ (7.79 فیصد، گندم (6.86 فیصد)، ا?لو (6.72 فیصد)، گندم کا ا?ٹا (4.74 فیصد)، پھلیاں (4.53 فیصد)، پیاز (3.82 فیصد)، خشک میوہ جات (3.22 فیصد)، دال مسور (2.66 فیصد)، سرسوں کا تیل (2.49 فیصد)، دال چنا(1.04 فیصد)، گھی (1 فیصد) شامل ہے۔تاہم شہری علاقوں میں جن اشیا کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ان میں تازہ سبزیاں (11.5 فیصد)، مرغی (2.28 فیصد)، چینی (1.18 فیصد) اور تازہ پھلوں کی قیمت میں 1.03 فیصد کمی ہوئی۔علاوہ ازیں دیہی علاقوں میں جن اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ان میں ٹماٹر (189.67 فیصد)، پیاز (13.83 فیصد)، گندم (10.85 فیصد)،

دال مونگ (8.55 فیصد)، پھلیاں (6.2 فیصد)، ا?ٹا (6.15 فیصد)، تازہ پھل (4.68 فیصد)، ا?لو (4.43 فیصد)، دال مسور (3.89 فیصد)، خشک میوہ جات (3.25 فیصد)، سوتی کپڑا (2.58 فیصد)، ثابت چنے (1.48 فیصد)، انڈے (1.31 فیصد)، مچھلی (1.3 فیصد)، تیار خوراک (1.19 فیصد)، چاول (1.02فیصد) اور دال چنا (1.01فیصد) شامل ہے۔اسی طرح شہری علاقوں میں (خوراک کے علاوہ) دیگر اشیائے ضروریات کی قیمتوں میں سالانہ اعتبار سے 9.6 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ دیہی علاقوں میں یہ اضافہ 9 فیصد رہا۔

خیال رہے کہ خوراک کے علاوہ دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی عمومی وجہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور ایکسچینج ریٹ میں کمی سے اثر انداز ہونے والا دباؤ ہوتا ہے۔لہٰذا خوراک کے علاوہ اشیا کی قیمتیں بھی بلند رہیں، اس کے علاوہ تعلیم کے حوالے سے اس میں 6.12 فیصد اضافہ ہوا کپڑوں اور جوتوں کی قیمتیں 9.37 فیصد بڑھیں۔مزید برآں رہائش، پانی، بجلی، گیس اور دیگر ایندھن کی قیمتوں میں 8.81 فیصد اضافہ ہوا، گھر کی سجاوٹ اور استعمال کی اشیا کی قیمت 10.84 فیصد، صحت کے اخراجات 11.39 فیصد، ا?مد و رفت 13.95 فیصد جبکہ سیر و تفریح کی لاگت میں 6.8 فیصد اضافہ ہوا۔خیال رہے کہ سینسٹو پرائس ایڈیکس کے تحت لگائے گئے اندازوں کے مطابق جولائی تا نومبر مہنگائی گزشتہ برس کے اسی عرصے کے 1.99 فیصد اضافے کے مقابلے میں 14.22 فیصد تک پہنچ گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…