پیر‬‮ ، 02 فروری‬‮ 2026 

وفاقی حکومت کے سرکاری سٹیل مل کے بجائے پرائیویٹ سٹیل مل کی بحالی کے لئے اقدامات،ملازمین میں کھلبلی مچ گئی

datetime 2  دسمبر‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی) وفاقی حکومت کی جانب سے اسٹیل مل کے بجائے طوارقی اسٹیل مل کی بحالی کے حوالے سے اقدامات پر پاکستان اسٹیل مل کے حلقوں میں بے چینی پھیل گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے سال2013سے غیر فعال طوارقی اسٹیل مل کی بحالی کے منصوبے پر غور سے پاکستان اسٹیل مل کے ملازمین میں بددلی پھیل گئی ہے۔ پاکستان اسٹیل مل جیسا حکومتی ملکیتی ادارہ جون2015سے غیر فعال ہے

جبکہ گزشتہ اور موجودہ حکومت میں اس ادارے کی بحالی کے حوالے سے بارہا بلند بانگ دعوے بھی کیے گئے۔بتایا جاتا ہے کہ طوارقی اسٹیل مل کی بحالی کے حوالے سے مل مالکان اور وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت کے درمیان ایک سے زائد مرتبہ بات چیت ہوچکی ہے جس میں ملز مالکان نے 50تا70کروڑ ڈالرکی مزید سرمایہ کاری کی یقین دہانی کرائی ہے۔ طوارقی اسٹیل مل کے مالکان اس سرمایہ کاری کے عوض حکومت پاکستان سے ارزاں نرخوں پر گیس فراہمی اور بلٹس پر رعایتی ڈیوٹی کے خواہاں ہیں۔طوارقی اسٹیل مل کراچی میں پورٹ قاسم کے علاقے میں 220ایکڑ پر قائم کی گئی تھی جس کی سالانہ پیداواری استعداد1.28ملین ٹن ہے جسے بڑھا کر15لاکھ ٹن سالانہ تک لے جایا جاسکتا ہے۔واضح رہے کہ سال 2013میں طوارقی اسٹیل مل کے مالکان اور حکومت کے درمیان رعایتی نرخوں پر گیس کی فراہمی کے معاملے پر تنازعہ کھڑا ہوگیا تھا جس کے بعد مل مالکان نے پیداواری عمل معطل کردیا تھا۔دوسری جانب پاکستان اسٹیل مل کے بجائے طوارقی اسٹیل مل کی بحالی کے حوالے سے آنے والی اطلاعات نے پاکستان اسٹیل کے افسران اور ملازمین میں بے چینی کی لہر پیدا کردی ہے۔ اسٹیل مل کے ملازمین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے 3 ماہ کے اندر غیر فعال اداروں کی بحالی کے حوالے سے اقدامات کرنے کی ہدایت کی تھی،تاہم غیر فعال سرکاری ادارے کی بحالی کے بجائے نجی شعبے میں چلنے والے ادارے کی بحالی کیلئے اقدامات اٹھانا کسی طور ملک کی خدمت نہیں۔ ملازمین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فولاد سازی کے سب سے بڑے ملکی کارخانے کی بحالی و بقا کیلئے سنجیدہ اور نیک نیتی کے ساتھ اقدامات کیے جائیں تا کہ ہزاروں افرا د کے مستقبل کے ساتھ ساتھ اس قومی اثاثے کو بھی بچایا جاسکے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اصفہان میں دو دن


کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…