جمعرات‬‮ ، 16 اپریل‬‮ 2026 

 پاکستان کا بیانیہ کمزور نہیں جیب خالی ہے، اب افغانیوں کو نہیں سنبھال سکتے،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بڑے اعترافات،افغان طالبان سے متعلق بڑا اعلان کردیا

datetime 3  اکتوبر‬‮  2019 |

ملتان(این این آئی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کا بیانیہ کمزور نہیں جیب خالی ہے، ملک کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو اپنی جیبیں نہیں خزانہ بھرے،اقوام متحدہ کے اجلاس میں 7 دن میں 120 نشستیں گلوبل لیڈرز کے ساتھ کیں، کب تک افغانیوں کو سنبھالیں گے، آگے بڑھنا ہے تو اس کا سیاسی حل نکالنا ہوگا، خطے میں امن اور روزگار کے لیے ضروری ہے افغانیوں کا مسئلہ حل کیا جائے،

فغان طالبان سے ہونے والی نشست پر مطمئن ہوں‘خطے میں موجودہ حالات کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔تقریب سے خطاب کے دوران وزیر خارجہ نے کہا کہ خطے میں امن اور استحکام چاہتے ہیں، ایک طبقہ نہیں چاہتا یہاں امن و استحکام ہو، ملک کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو اپنی جیبیں نہیں خزانہ بھرے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ تاریخ بتائے گی کہ 5 اگست کو مودی سرکار کا فیصلہ ان کی حماقت تھی، مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا بیانیہ کمزورنہیں جیب خالی ہے، کسی بھی انسانی حقوق کی تنظیم نے ہندوستان کی ہاں میں ہاں نہیں ملائی۔ کشمیر میں 60 روز سے کرفیو جاری ہے لیکن ان کے حوصلے نہیں ٹوٹے، جس دن کشمیر سے کرفیو ہٹا اصلی چہرہ ان کے سامنے آجائے گا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں 7 دن میں 120 نشستیں گلوبل لیڈرز کے ساتھ کیں، کب تک افغانیوں کو سنبھالیں گے، آگے بڑھنا ہے تو اس کا سیاسی حل نکالنا ہوگا، خطے میں امن اور روزگار کے لیے ضروری ہے کہ افغانیوں کا مسئلہ حل کیا جائے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ طالبان کے ساتھ اطمینان بخش نشست ہوئی، میں نے انہیں گزارش کی کہ ہم نے طویل قربانیاں دی ہیں، طویل جنگ کا نتیجہ نہیں نکلا اب امن کو موقع دینا چاہیے، امن سے ہی مسائل حل ہوں گے۔ سعودی عرب کی تیل تنصیبات پرحملے سے کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا، عمران خان اورہماری حکومت نے سعودی عرب اورایران میں بھی معاملات سلجھانے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہاکہ فغان طالبان سے ہونے والی نشست پر مطمئن ہوں،میں نے افغان طالبان کے فود سے ملاقات میں واضح کیا کہ یقینا آپ 40 برس سے انتہائی کرب سے گزرے تاہم پاکستان نے بھی کوئی کم قربانی نہیں دی۔انہوں نے کہا کہ 27 لاکھ افغان باشندے پاکستان میں مہمان کا درجہ رکھتے ہیں جنہیں ہم نے اپنے سینے سے لگا کر رکھا، انہیں روزگار مہیا کیا، تعلیم کے مواقع دیے اور طبی سہولیات فراہم کیں لیکن پائیدار ترقی کا راستہ امن ہے۔

وزیر خارجہ نے بتایا کہ افغان امن عمل کا خطے میں ترقی سے گہرا تعلق ہے، ملک میں موجودہ معاشی نمو تسلی بخش نہیں اس لیے ضروری ہے کہ معاشی نمو میں 7 سے 8 فیصد سالانہ اضافہ ہو۔شاہ محمود قریشی نے بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج مرکھنڈے کاٹجو کا حوالہ دیتے کر بتایا کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے خطے میں گوریلا جنگ کا بیج بودیا۔انہوں نے کہا کہ خطے میں موجودہ حالات کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…