اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

 پاکستان کا بیانیہ کمزور نہیں جیب خالی ہے، اب افغانیوں کو نہیں سنبھال سکتے،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بڑے اعترافات،افغان طالبان سے متعلق بڑا اعلان کردیا

datetime 3  اکتوبر‬‮  2019 |

ملتان(این این آئی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کا بیانیہ کمزور نہیں جیب خالی ہے، ملک کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو اپنی جیبیں نہیں خزانہ بھرے،اقوام متحدہ کے اجلاس میں 7 دن میں 120 نشستیں گلوبل لیڈرز کے ساتھ کیں، کب تک افغانیوں کو سنبھالیں گے، آگے بڑھنا ہے تو اس کا سیاسی حل نکالنا ہوگا، خطے میں امن اور روزگار کے لیے ضروری ہے افغانیوں کا مسئلہ حل کیا جائے،

فغان طالبان سے ہونے والی نشست پر مطمئن ہوں‘خطے میں موجودہ حالات کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔تقریب سے خطاب کے دوران وزیر خارجہ نے کہا کہ خطے میں امن اور استحکام چاہتے ہیں، ایک طبقہ نہیں چاہتا یہاں امن و استحکام ہو، ملک کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو اپنی جیبیں نہیں خزانہ بھرے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ تاریخ بتائے گی کہ 5 اگست کو مودی سرکار کا فیصلہ ان کی حماقت تھی، مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا بیانیہ کمزورنہیں جیب خالی ہے، کسی بھی انسانی حقوق کی تنظیم نے ہندوستان کی ہاں میں ہاں نہیں ملائی۔ کشمیر میں 60 روز سے کرفیو جاری ہے لیکن ان کے حوصلے نہیں ٹوٹے، جس دن کشمیر سے کرفیو ہٹا اصلی چہرہ ان کے سامنے آجائے گا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں 7 دن میں 120 نشستیں گلوبل لیڈرز کے ساتھ کیں، کب تک افغانیوں کو سنبھالیں گے، آگے بڑھنا ہے تو اس کا سیاسی حل نکالنا ہوگا، خطے میں امن اور روزگار کے لیے ضروری ہے کہ افغانیوں کا مسئلہ حل کیا جائے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ طالبان کے ساتھ اطمینان بخش نشست ہوئی، میں نے انہیں گزارش کی کہ ہم نے طویل قربانیاں دی ہیں، طویل جنگ کا نتیجہ نہیں نکلا اب امن کو موقع دینا چاہیے، امن سے ہی مسائل حل ہوں گے۔ سعودی عرب کی تیل تنصیبات پرحملے سے کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا، عمران خان اورہماری حکومت نے سعودی عرب اورایران میں بھی معاملات سلجھانے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہاکہ فغان طالبان سے ہونے والی نشست پر مطمئن ہوں،میں نے افغان طالبان کے فود سے ملاقات میں واضح کیا کہ یقینا آپ 40 برس سے انتہائی کرب سے گزرے تاہم پاکستان نے بھی کوئی کم قربانی نہیں دی۔انہوں نے کہا کہ 27 لاکھ افغان باشندے پاکستان میں مہمان کا درجہ رکھتے ہیں جنہیں ہم نے اپنے سینے سے لگا کر رکھا، انہیں روزگار مہیا کیا، تعلیم کے مواقع دیے اور طبی سہولیات فراہم کیں لیکن پائیدار ترقی کا راستہ امن ہے۔

وزیر خارجہ نے بتایا کہ افغان امن عمل کا خطے میں ترقی سے گہرا تعلق ہے، ملک میں موجودہ معاشی نمو تسلی بخش نہیں اس لیے ضروری ہے کہ معاشی نمو میں 7 سے 8 فیصد سالانہ اضافہ ہو۔شاہ محمود قریشی نے بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج مرکھنڈے کاٹجو کا حوالہ دیتے کر بتایا کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے خطے میں گوریلا جنگ کا بیج بودیا۔انہوں نے کہا کہ خطے میں موجودہ حالات کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…