منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

گیس کمپنیوں کے ایم ڈیز کی آسامیاں مزید خالی نہ رکھی جائیں، پاکستان اکانومی واچ

datetime 20  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ آٹھ ماہ سے زیادہ گزرنے کے باوجود سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ(ایس این جی پی ایل) اور سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی)کے مینیجنگ ڈائریکٹر زکی آسامیاں خالی پڑی ہیں جس سے ان اداروں کی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے آٹھ جنوری 2019کو دونوں گیس کمپنیوں کے ایم ڈیز کوملک گیر

گیس بحران کی پاداش میں انکوائری کے بعد فارغ کر دیا تھا جس کے بعد سے ایکٹنگ ایم ڈیز سے کام چلایا جا رہا ہے۔ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونیوالے ایک بیان میں کہا کہ ایس این جی پی ایل اور ایس این جی پی ایل کے ایم ڈی کے عہدے پر آٹھ ماہ سے زیادہ گزرنے کے باوجود کسی کومستقل بنیادوں پر تعینات نہیں کیا جا سکا ہے جبکہ مروجہ قوانین کے مطابق اس عہدے کو تین ماہ سے زیادہ خالی نہیں رکھا جا سکتا ہے۔ گیس کمپنیوں کی ان اہم آسامیوں پر من پسند افسر لگوانے کے لئے مختلف اہم شخصیات میں رسہ کشی جاری ہے جس کی وجہ سے تاخیر ہو رہی ہے۔ایس این جی پی ایل کے ایم ڈی کے عہدے کیلئے تین بارچوبیس مارچ2019 ، چار اگست2019 ، اور گیارہ ستمبر2019 کو اشتہار دئیے جا چکے ہیں جبکہ ہر بار تقرری کا معیار غیر قانونی طور پر بدل دیا جاتا ہے جو متعلقہ قوانین کامزاق اڑانے کے مترادف ہے جس کی وجہ سے سٹاف میں بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مختلف حلقے اس آسامی پر قبضے کیلئے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہے ہیںجس سے ایس این جی پی ایل کی کارکردگی گر گئی ہے، اہم فیصلے زیر التوا ہیں،اصلاحات کا سلسلہ رکا ہواہے،سات ہزارملازمین کا مورال متاثر ہو رہا ہے جبکہ بے یقینی کی وجہ سے بھاری مالی نقصان الگ ہو رہا ہے جسکا ملبہ معمول کے مطابق مہنگائی سے بلکتے عوام پر ڈالا جائیگا اس لئے وزیر اعظم عمران خان اس معاملہ کا نوٹس لے کر میرٹ پر تعیناتی یقینی بنائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…