اتوار‬‮ ، 22 فروری‬‮ 2026 

کمزوریاں برقرار،اقتصادی نمو کی رفتار سست،سٹیٹ بینک نے معیشت پر تیسری سہ ماہی رپورٹ جاری کردی،تشویشناک انکشافات

datetime 15  جولائی  2019 |

کراچی (این این آئی) بینک دولت پاکستان نے پاکستانی معیشت کی کیفیت پر اپنی تیسری سہ ماہی رپورٹ برائے مالی سال 19 آج جاری کردی جس میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ پاکستان کی معیشت طلب کو قابو میں کرنے کی پالیسیوں کی مدد سے استحکام کی طرف گامزن رہی، تاہم جولائی تا مارچ مالی سال 19 کے دوران بیرونی اور مالیاتی شعبوں میں کمزوریاں برقرار رہیں۔ لہذا استحکام کا موجودہ ایجنڈا بنیادی نوعیت کی ساختی اصلاحات کے ساتھ نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔

مالی سال 19 کے دوران اقتصادی نمو کی رفتار خاصی سست ہوگئی، جس کی بنیادی وجہ جڑواں خساروں پر قابو پانے کی غرض سے کیے جانے والے پالیسی اقدامات کا ردِ عمل ہے۔ ان اقدامات سے صنعتی شعبے کی کارکردگی متاثر ہوئی اور ملک میں اشیا سازی کی سرگرمیاں ماند پڑیں۔ دریں اثنا پانی اور موسم سے متعلق خدشات، اور اس کے ساتھ ساتھ اہم خام مال کی بلند قیمتوں نے فصلوں کی پیداوار پر اپنا اثر ڈالا۔ اجناس پیدا کرنے والے شعبوں کی کمزور کارکردگی نے بھی خدمات کے شعبے کی کارکردگی کو محدود کیا۔مزید برآں، مالیاتی خسارے میں اضافہ ہوا کیونکہ نان ٹیکس محاصل میں تیزی سے کمی اور ٹیکس سے آمدنی میں سست روی نے ٹیکس کی مجموعی وصولی کو گذشتہ سال ہی کی سطح پر جامد رکھا۔ دوسری طرف، جولائی تا مارچ مالی سال 19 کے دوران اخراجات خصوصا اخراجاتِ جاریہ تیزی سے بڑھے، جنہوں نے ترقیاتی اخراجات میں کمی سے ہونے والی بچت بھی زائل کردی۔رپورٹ کے مطابق مہنگائی مسلسل اضافے کی طرف گامزن رہی۔ جنوری 2018 سے پالیسی ریٹ بڑھانے کے کئی ادوار کے باوجود جولائی تا مارچ مالی سال 19 کے دوران اوسط مہنگائی بلحاظ صارف اشاریہ قیمت (CPI)پورے سال کے ہدف سے بھی آگے نکل گئی۔ اگرچہ طلب بڑھنے کے دباو کی شدت مالی سال 19 کے اختتام تک کم ہوگئی تاہم غیر غذائی غیر توانائی جز میں اضافہ برقرار رہا جس کا سبب شرح مبادلہ میں کمی اور توانائی کے نرخوں میں اضافے کے بعد دورِ ثانی کے اثرات تھے۔

بیرونی شعبے میں جاری حسابات کا خسارہ کم ہوا جس کی وجوہ اشیا اور خدمات دونوں کی درآمدی ادائیگیوں میں آنے والی کمی، اور کارکنوں کی ترسیلات ِ زرمیں معقول نمو تھی۔ تاہم جاری حسابات کے خسارے کی بلند سطح اور فنانسنگ کا فرق پورا کرنے کے لیے ناکافی بیرونی سرمایہ کاری کے پیشِ نظر بیرونی قرضہ حاصل کرنے کے لیے ملک کو دوطرفہ اور کمرشل ذرائع اختیار کرنا پڑے۔رپورٹ میں پاکستان میں بجلی کے نرخوں پر ایک خصوصی سیکشن بھی شامل ہے۔ اس تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں بجلی کے نرخ طے کرنے کا طریقہ کار کیا ہے،

اور اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ ایندھن کی لاگت کم ہونے کے باوجود بجلی کے نرخ کم کیوں نہیں ہو رہے۔ خصوصی سیکشن اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پاکستان میں بجلی کے نرخوں کا بیشتر حصہ کپے سٹی ادائیگیوں پر مشتمل ہے، اور حالیہ برسوں میں ان ادائیگیوں میں تیزی سے ہونے والے اضافے نے ایندھن کی کم ہوتی ہوئی لاگت کا فائدہ مکمل طور پر زائل کر دیا ہے۔رپورٹ میں ایک اور خصوصی سیکشن پاکستان میں غذائی تحفظ کی صورتِ حال پر ہے۔ اس تجزیے میں زور دیا گیا ہے کہ اگر اصلاح کے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں ملک کو متعلقہ چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جن میں آبادی کی بلند نمو، اور پانی اور موسمیاتی لحاظ سے ناسازگار صورتِ حال شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…