پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

قمر زمان کائرہ بیٹے کی اچانک وفات پر صدمے سے نڈھال قل والے دن شدید گرمی میں کیا کرتے رہے اور اب کس حال میں ہیں؟ تعزیت کیلئے جانے والوں نے آنکھوں دیکھا حال بتا کر سب کو آبدیدہ کردیا

datetime 21  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پی پی رہنما قمر الزمان کائرہ کےبیٹے اور ان کے دوست کے قلوں میں شرکت کیلئے صحافی مبشر لقمان بھی لالہ موسیٰ گئے،اسی حوالے سے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں اسامہ کائرہ کی قل خوانی پر گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ بار بار لوگوں کو دروازے تک چھوڑنے جا رہے تھے۔

اکثر میں نے دیکھا کہ وہ ننگے پاؤں تھے۔ تپتی دوپہر میں وہ ننگے پاؤں پھر رہے تھے ، انہیں احساس ہی نہیں تھا کہ دھوپ ہے، گرمی ہے، شدت ہے اور حدت ہے، ایک دو مرتبہ کے علاوہ میں نے ان کو اس دن ننگے پاؤں ہی دیکھا۔قمر الزمان کائرہ گھر آئے لوگوں کو ایک ذمہ داری سمجھ کر ڈیل کر رہے تھے۔ اللہ ان کو اور ان کے گھر والوں کو اور حمزہ بٹ کے گھر والوں کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ مبشر لقمان نے مزید کہا کہ مجھے ایک بات کا دکھ بھی ہوا کہ آخر بلاول زرداری کی کیا مجبوری تھی کہ جس دن کائرہ صاحب کے بیٹے کے قل تھے ، اس دن کی جانے والے افطاری مؤخر نہیں ہو سکتی تھی؟میں نے ہمیشہ سنا تھا کہ پیپلز پارٹی ایک خاندان کی سی جماعت ہے لیکن یہ بات جھوٹ ثابت ہو گئی ۔ قمر الزمان کائرہ پیپلز پارٹی کی فیملی کے وہ فرد ہیں جو اپنے بیٹے کی موت کی خبر سنتے وقت بھی پریس کانفرنس میں بلاول کے باپ کی صفائی دے رہے تھے، لیکن جب ان پر وقت آیا تو بلاول بھٹو افطاری ، کھانا ، فوٹو سیشن ، ہنسنا کھیلنا اور ایک صوفے پر پھنس پھنس کر بیٹھنا زیادہ اہم ہو گیا۔مبشر لقمان نے پروگرام کے دوران مزید کہاجب دونوں کے جنازے اٹھائے گئے تو قمر الزمان کائرہ نے سب سے پہلے اپنے بیٹے کے دوست حمزہ کا جنازہ اٹھایا اور حمزہ کے جنازے کو کندھا دیا۔جبکہ باقی لوگوں نے ان کے بیٹے کا جنازہ اٹھایا۔ایسا کر کے قمر الزمان کائرہ نے ایک بڑا انسان ہونے کا ثبوت دیاکیونکہ یہ ایک بڑے آدمی ، عظیم باپ اور عظیم انسان کی نشانی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…