اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

کشمیر میں شہید پرنسپل رضوان کی موت دل کا دورہ پڑنے سے نہیں ، تشدد سے ہوئی،انڈین ایکسپریس نے بھانڈہ پھوڑ دیا

datetime 23  مارچ‬‮  2019 |

سرینگر(اے این این)اونتی پورہ سے تعلق رکھنے والے نجی اسکول کے پرنسپل کی دوران حراست ہلاکت میں انکے جسم پر تشدد کے نشانات تھے۔انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موصوف کے جسم پر تشدد کے واضح اور نمایاں نشانات موجود تھے اور ایسا لگ رہا ہے کہ 28سالہ رضوان کی موت غالباً موصوف کے جسم پر لگے زخموں سے ہوئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پوسٹ مارٹم سے معلوم ہوا ہے کہ موصوف کی موت جسم سے خون کی بھاری مقدار بہنے نیز انکی شریانوں سے کافی خون ضائع ہونے کے نتیجے میں واقع ہوئی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رضوان کے جسم پر گہرے زخم تھے جن سے کافی خون بہہ چکا تھا جس کے نتیجے میں موصوف کو ناقابل برداشت صدمے سے دوچار ہونا پڑا ہوگا۔تحقیقاتی ٹیم سے منسلک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ رضوان کے اندرونی اعضا پر ایسے کوئی واضح اور گہرے زخم موجود نہیں تھے۔انہوں نے بتایا کہ لاش کے مجموعی جسم پر کاٹنے اور زخموں کے واضح نشانات موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ رضوان کے بائیں بازو اور آنکھ میں ہیموٹوما یعنی خون کی موٹی پرت جم گئی تھی جس کے نتیجے میں ان کا بائیں بازو اور ایک آنکھ میں کافی سوجھن ہوئی تھی۔مذکورہ افسر نے دل کادورہ پڑنے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ رضوان کی ٹانگوں پر رولر پھیر ا گیا ہے جس کے نتیجے میں ان کی نسیں اور شریان پھٹ گئی۔رضوان کے بھائی مبشر اسد نے دعویٰ کیا ہے کہ رضوان کی لاش پر تشدد کے واضح نشانات موجود تھے۔ پورے جسم پر تشدد کے نشانات واضح تھے۔انہوں نے بتایا کہ میرے بھائی کا بڑی بے دردی کے ساتھ جسمانی تشدد کیا گیا ۔انہوں نے بتایا کہ رضوان کی آنکھ تشدد کے نتیجے میں کالی پڑگئی تھی جبکہ چہرہ پوری طرح سوجھا ہوا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ میرے بھائی رضوان کی رانوں کو ٹارچر کے دوران جلایا گیا تھا جبکہ اس کے سر پر ٹانکوں کے بھی نشانات پائے گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…