ہفتہ‬‮ ، 29 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

ذاتی وجوہات کی بناء پر ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اپنے عہدے سے مستعفی

datetime 26  فروری‬‮  2019 |

تہران (این این آئی)ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ۔ایرانی ٹی وی کے مطابق انھوں نے انسٹاگرام پر اپنے استعفے کا ا علان کردیا ۔انھوں نے انسٹا گرام پر اپنے صفحے پر لکھا کہ میں گذشتہ برسوں کے دوران میں وزیر خارجہ کی حیثیت سے خود سے ہونے والی لغزشیوں اور کمیوں ،کوتاہیوں پر معذرت خواہ ہوں۔میں ایرانی قوم اور حکام کا شکرگزار ہوں۔

جواد ظریف نے جولائی 2015ء میں ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان طے شدہ جوہری سمجھوتے کو حتمی شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا تھا لیکن گذشتہ سال مئی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس سمجھوتے سے انخلا کے بعد سے انھیں مغرب مخالف سخت گیروں کے تندوتیز حملوں کا سامنا تھا۔بعض ذرائع نے جواد ظریف کے استعفے کی تصدیق کی ہے لیکن یہ واضح نہیں ہوا کہ آیا صدر حسن روحانی اس کو منظور کر لیں گے۔واضح رہے کہ امریکا نے گذشتہ سال نومبر میں ایران کے خلاف دوبارہ سخت اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں جبکہ اس سمجھوتے میں شامل تین یورپی ممالک فرانس ، برطانیہ اور جرمنی امریکا کے جوہری سمجھوتے سے انخلا کے بعد سے اس کو بچانے کے لیے کوشاں ہیں اور وہ ایران میں کاروبار کرنے والی یورپی کمپنیوں کو بھی امریکی پابندیوں کے اثرات سے بچانا چاہتے ہیں۔مگر خود جواد ظریف نے امریکا کی دستبردار ی کے بعد ایک بیان میں جوہری سمجھوتے کو قریبِ مرگ مریض قرار دے دیا تھا اور کہا تھا کہ جوہری سمجھوتا جان کنی کے عالم میں ہے اور یورپی فریقوں کی جانب سے مذاکرات کے دوران میں کوئی واضح موقف اختیار نہ کرنے کی وجہ سے اپنی موت آپ مررہا ہے۔ہم نہیں جانتے کہ یورپی اب اور کتنی دیر امریکی پابندیوں کی مزاحمت کریں گے کیونکہ یورپی کمپنیوں کے زیادہ تر حصص داران تو امریکی ہیں۔جواد ظریف نے مغرب کے ساتھ یہ جوہری سمجھوتا طے پانے کے کوئی ڈیڑھ ایک سال کے بعد ایران کی قومی سلامتی کمیٹی میں بیان دیتے ہوئے یہ بھی اعتراف کیا تھا کہ انھوں نے مغرب کے ساتھ جوہری مذاکرات کے دوران میں فیصلے کی غلطی کی تھی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)


عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…

عدیل اکبرکو کیاکرناچاہیے تھا؟

میرا موبائل اکثر ہینگ ہو جاتا ہے‘ یہ چلتے چلتے…