پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

ذاتی وجوہات کی بناء پر ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اپنے عہدے سے مستعفی

datetime 26  فروری‬‮  2019 |

تہران (این این آئی)ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ۔ایرانی ٹی وی کے مطابق انھوں نے انسٹاگرام پر اپنے استعفے کا ا علان کردیا ۔انھوں نے انسٹا گرام پر اپنے صفحے پر لکھا کہ میں گذشتہ برسوں کے دوران میں وزیر خارجہ کی حیثیت سے خود سے ہونے والی لغزشیوں اور کمیوں ،کوتاہیوں پر معذرت خواہ ہوں۔میں ایرانی قوم اور حکام کا شکرگزار ہوں۔

جواد ظریف نے جولائی 2015ء میں ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان طے شدہ جوہری سمجھوتے کو حتمی شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا تھا لیکن گذشتہ سال مئی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس سمجھوتے سے انخلا کے بعد سے انھیں مغرب مخالف سخت گیروں کے تندوتیز حملوں کا سامنا تھا۔بعض ذرائع نے جواد ظریف کے استعفے کی تصدیق کی ہے لیکن یہ واضح نہیں ہوا کہ آیا صدر حسن روحانی اس کو منظور کر لیں گے۔واضح رہے کہ امریکا نے گذشتہ سال نومبر میں ایران کے خلاف دوبارہ سخت اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں جبکہ اس سمجھوتے میں شامل تین یورپی ممالک فرانس ، برطانیہ اور جرمنی امریکا کے جوہری سمجھوتے سے انخلا کے بعد سے اس کو بچانے کے لیے کوشاں ہیں اور وہ ایران میں کاروبار کرنے والی یورپی کمپنیوں کو بھی امریکی پابندیوں کے اثرات سے بچانا چاہتے ہیں۔مگر خود جواد ظریف نے امریکا کی دستبردار ی کے بعد ایک بیان میں جوہری سمجھوتے کو قریبِ مرگ مریض قرار دے دیا تھا اور کہا تھا کہ جوہری سمجھوتا جان کنی کے عالم میں ہے اور یورپی فریقوں کی جانب سے مذاکرات کے دوران میں کوئی واضح موقف اختیار نہ کرنے کی وجہ سے اپنی موت آپ مررہا ہے۔ہم نہیں جانتے کہ یورپی اب اور کتنی دیر امریکی پابندیوں کی مزاحمت کریں گے کیونکہ یورپی کمپنیوں کے زیادہ تر حصص داران تو امریکی ہیں۔جواد ظریف نے مغرب کے ساتھ یہ جوہری سمجھوتا طے پانے کے کوئی ڈیڑھ ایک سال کے بعد ایران کی قومی سلامتی کمیٹی میں بیان دیتے ہوئے یہ بھی اعتراف کیا تھا کہ انھوں نے مغرب کے ساتھ جوہری مذاکرات کے دوران میں فیصلے کی غلطی کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…