جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

پاکستان نہیں ہوتا تو کیا کررہا ہوتا؟بابا رحمتے کی اصطلاع کس کیلئے استعمال کی تھی؟ثاقب نثار نے دل کی تمام باتیں بتا دیں

datetime 25  فروری‬‮  2019 |

کراچی(وائس آف ایشیا ) سابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس ریٹائرڈ میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ میری عزت میرا سب کچھ پاکستان سے ہے،اگر پاکستان نہیں ہوتا تو میں کسی بینک کا ملازم ہوتا، لوگوں کے حقوق کی پاسداری، آئین اور ملک کی ترقی وطن سے محبت سے ہی ہوگی، کرپشن سے بچنے کے لیے احتساب کاعمل واضح ہونا چاہیے۔کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران

سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ریٹائرڈ میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ ایک ریاست اور ایک ملک کے طور پر اللہ نے اس معاشرے کو نعمت بخشی ہے، کرپشن سے بچنے کے لییاحتساب کاعمل واضح ہونا چاہیے، ملک کے لئے محبت کم ہوتی جارہی ہے، ہم بہت دیر تک پاکستان کی محبت سے نا آشنا رہے۔سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میری عزت میرا سب کچھ پاکستان سے ہے، جو کچھ بھی ملا ہے وہ اس ملک کی محبت کی وجہ سے ہے، اگر پاکستان نہیں ہوتا تو میں کسی بینک کا ملازم ہوتا، لوگوں کے حقوق کی پاسداری، آئین اور ملک کی ترقی وطن سے محبت سے ہی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی کے لیے انصاف اہم ستون ہے، عدل کے ساتھ کفالت کرنے والے ترقی کرتے ہیں، ہمیں عدل کرنے والے قاضی چاہیے، وائٹ کالر جرائم پکڑنے کے لیے ہمیں اپنے قانون میں جدید خطوط پر ترامیم کرنا ہوں گی۔ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مقابلے میں بھارت کے ادارے مضبوط ہیں، پاکستان میں سب سے سپریم ادارہ قانون ہے، کیا ہم نے پاکستان کا قانون بنانے میں توجہ دی ہے؟، قانون کو اپ گریڈ کرنے والے ادارے سے غفلت ہوئی ہے۔جسٹس (ر)ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ بابا رحمتے کی اصطلاح میں نے اپنی ذات کے لئے استعمال کی تھی، میرے سوموٹو کو مذاق لیا گیا تھا لیکن میں جواز دے سکتا ہوں، پہلی بار کراچی آیا تو دیکھا اتنا خوبصورت شہر ہے لیکن بڑے بڑے تشہیری بورڈز نے اس کی خوبصورتی خراب کردی ہے، شہر کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لئے تشہیری بورڈز ہٹانے کا حکم جاری کیا۔ پانی زندگی ہے، اس کے بغیر زندگی کا تصور نہیں، بلند عمارتیں تعمیر کرنے سے اس لئے منع کیا کہ مجھے لگتا تھا کہ پانی کا مسئلہ شدت اختیار کر جائے گا۔سابق چیف جسٹس نے کہا کہ جو پانی ہم سمندر میں پھینک رہے ہیں اس میں کثافتیں ہیں۔

ہم سیوریج، کیمیکل اور میڈیکل کا فضلہ سمندر میں پھینک رہے ہیں، راوی آج ایک گندا نالا ہے، پانچ نالے راوی میں بہہ رہے ہیں اور اس سے سبزیاں اگ رہی ہیں، آبادی کو کنٹرول کرنا وقت کی ضرورت ہے، آبادی کو کنڑول نہیں کیا گیا تو ہماری آبادی 30 سال بعد 39 کروڑ تک بڑھ جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…