ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

پاکستان کو دیے جانے والے تین ارب ڈالرز کا مقصد کیا ہے اور یہ کیوں دیے جا رہے ہیں؟ متحدہ عرب امارات نے وضاحت جاری کر دی

datetime 21  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان میں قائم متحدہ عرب امارات کے سفارتخانے کی جانب سے تین ارب ڈالر سٹیٹ بینک میں جمع کرائے جانے کے معاملہ پرجاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی اقتصادی پالیسیوں کو سپورٹ کرنے اور مالی ذخائر بڑھانے کے لیے مدد کی جا رہی ہے۔ سفارت خانے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستان کے لیے امداد کی بنیاد تاریخی تعلقات ہیں، ابوظہبی فنڈز فار ڈویلپمنٹ کی جانب سے رقم جمع کرائے جانے سے پاکستانی معیشت مضبوط ہو گی،

متحدہ عرب امارات کے اس اعلان کے بعد ملکی ہچکولے کھاتی معیشت کوسہارا مل گیا، متحدہ عرب امارات نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں 3 ارب ڈالر جمع کرانے کا اعلان کیا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس رقم سے پاکستان اور آئی ایم کے درمیان مذاکرات میں بھی نرمی آئیگی اور امریکی دباو کم ہونے کیساتھ ساتھ آئی ایم ایف کی شرائط میں بھی نرمی آئیگی رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک میں 3 ارب ڈالر جمع کرانے کا اعلان ابوظہبی فنڈ فار ڈیویلپمنٹ نے ایک بیان میں کیا ہے بیان کے مطابق 3 ارب ڈالرز سے پاکستان کی معیشت مستحکم ہو گی اور اس سے دو طرفہ تعلقات میں بھی بہتری آئے گی ابوظہبی فنڈ فار ڈیویلپمنٹ نے پاکستان کے 8 ترقیاتی منصوبوں کو مالی امداد فراہم کی ہے جس کی مجموعی مالیت 1.5 ارب درہم ہے جن میں توانائی، صحت، تعلیم اور سڑکوں جیسے منصوبے شامل ہیں وزیراعظم نے اپنے ٹوئٹر بیان میں کہا کہ آزمائش کی گھڑی میں نہایت فراخدلی سے پاکستان کا ساتھ دینے پر متحدہ عرب امارات کی حکومت کا مشکور ہوں واضح رہے کہ امارات سے قبل سعودی عرب بھی پاکستان کو 12 ارب ڈالر کا پیکج دینے کا اعلان کر چکا ہے رواں برس 23 اکتوبر کو وزیراعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب کے موقع پر پاکستان کے وزیر خزانہ اسد عمر اور سعودی وزیر خزانہ محمد عبداللہ الجدان کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس کے مطابق سعودی عرب پاکستان کے اکاؤنٹ میں 3 ارب ڈالر ایک سال کے لیے جمع کروائے گا

جس کا مقصد ادائیگیوں کے توازن کو سہارا دینا ہے اس کے ساتھ ساتھ تاخیر سے ادائیگی کی بنیاد پر سعودی عرب پاکستان کو سالانہ 3 ارب ڈالر مالیت کا تیل دے گا اور یہ سلسلہ 3 سال تک جاری رہے گا جس کے بعد اس پر دوبارہ جائزہ لیا جائے گااقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ رقم پاکستان کے اکاؤنٹ میں رکھنے سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ میں کمی آئے گی اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت میں استحکام آئے گاماہر معشیات کا کہنا ہے کہ اس مدد سے پاکستان کی معیشت کو استحکام ضرور ملے گا مگر اسے اب بھی آئی ایم ایف کے پاس ضرور جانا چاہیے خیال رہے کہ موجودہ حکومت کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ دور کرنے اور معیشت کی حالت بہتر کرنے کے لیے کوششیں کررہی ہے، اس سلسلے میں حکومت نے چین اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے بھی مذاکرات کیے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…