اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

ضمنی انتخابات میں نتائج مرتب ‘ارسال کرنے کا عمل بہتر رہا‘ فافن

datetime 17  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن) فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے کہا ہے کہ ضمنی انتخابات کے دوران نتائج مرتب کرنے کے نظام میں 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے مقابلے میں خاصی بہتری دیکھنے میں آئی۔14 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے 35 حلقوں پر ہونے والے انتخابات میں ٹرن آؤٹ عام انتخابات سے کہیں زیادہ کم رہا،تاہم ووٹوں کی گنتی اور ریٹرننگ افسران کے نتائج مرتب اور ارسال کرنے کے عمل میں شفافیت اور اچھی کارکردگی دکھائی گئی۔

رپورٹ کے مطابق بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی۔40 کے علاوہ تمام حلقوں میں عبوری نتائج رات 2 بجے کی ڈیڈلائن سے قبل ہی مکمل کرلیے گئے تھے،انتخابی عمل کا جائزہ لینے کے لیے فافن نے ایک ہزار 2 سو 96 مرد اور 4 سو 41 خواتین سمیت مجموعی طور پر ایک ہزار 7 سو 37 انتخابی مبصرین تعینات کیے تھے جنہوں نے قومی اسمبلی کے 11 اور صوبائی اسمبلی کے 27 حلقوں کے 4 ہزار 38 پولنگ اسٹیشنز پر انتخابی عمل جائزہ لیا۔رپورٹ کے مطابق عام انتخابات کے ٹرن آؤٹ کے مقابلے میں ضمنی انتخابات میں خواتین ووٹرز کا ٹرن آؤٹ 54 فیصد جبکہ مرد ووٹرز کا 44 فیصد کم رہا۔تاہم تمام حلقوں میں خواتین ووٹرز کا ٹرن آؤٹ 10 فیصد سے زائد رہا جو نتائج تسلیم کیے جانے کے لیے لازمی حد ہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 35 حلقوں میں کل 3 سو 74 امیدواروں نے انتخابات میں حصہ لیا جس میں 139 امیدوار مختلف 27 سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کررہے تھے اور دیگر 2 سو 35 افراد سے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا۔ضمنی انتخابات میں الیکشن کمیشن نے 21 ہزار 7 سو 83 پولنگ بوتھ پر مشتمل 7 ہزار 4 سو 89 پولنگ اسٹیشن قائم کیے جبکہ ان تمام حلقوں میں رجسٹرڈ ووٹرز کی مجموعی تعداد 92 لاکھ 83 ہزار 74 تھی۔واضح رہے کہ عام انتخابات کے مقابلے میں ضمنی انتخابات میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد میں 42 ہزار 8 سو 10 ووٹرز کااضافہ دیکھنے میں آیا۔اسکے علاوہ ضمنی انتخابات میں فافن مبصرین کو انتخابی عمل کا مشاہدہ کرنے کے واقعات محض ایک فیصد جبکہ گنتی کا عمل دیکھنے سے روکنے کے 6 فیصد واقعات رونما ہوئے۔تاہم ایک سو 46 پولنگ اسٹیشنز پر بیلٹ کی رازداری کا خیال نہیں رکھا گیا اور ان حلقوں میں پولنگ عملے نے غیر متعلقہ افراد کو بوتھ کے پاس موجود ہونے سے نہیں روکا جبکہ 8 سو 84 پولنگ اسٹیشنز میں مہر لگانے کو چھپانے والی اسکرین اس طرح لگائی گئیں تھی کہ دوسرے باآسانی اسے دیکھ سکتے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…