اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

حکومت اگر ۔۔اس ملک کو چلانا چاہتی ہے تو یہ صرف ایک کام کرے‘ سارے مسئلے ختم ہو جائیں گے‘ کل رات داخلہ کے سٹیٹ منسٹر شہریار آفریدی اسلام آباد میں کیا کرتے رہے؟ملک میں کیا واقعی حالات خراب نہیں؟ جاوید چودھری کاتجزیہ

datetime 10  اکتوبر‬‮  2018 |

حکومت اگر اس ملک کو چلانا چاہتی ہے تو یہ صرف ایک کام کرے‘ جی ہاں صرف ایک کام اور ملک کے سارے مسئلے ختم ہو جائیں گے‘ ایک لفظ ہے اگر‘ حکومت لفظ اگر پر پابندی لگا دے تو ملک مشکلات سے نکل آئے گا کیونکہ الیکشن سے پہلے آپ کی پوری پارٹی اگر پر چل رہی تھی‘ اگر ہم جیت گئے‘ اگر ہمیں اقتدار مل گیا اور اگر ہمیں ووٹ مل گئے تو ہم قرض نہیں لیں گے‘ ہم اداروں کو خودمختار بنا دیں گے‘

ملک کو دو سو ایکسپرٹس چلائیں گے‘ میرٹ ہو گا‘ بزنس ہو گا اور انصاف ہو گا وغیرہ وغیرہ اور اب پوری حکومت اگر پر چل رہی ہے‘ اگر لوٹے ہوئے دو سو ارب ڈالر واپس مل گئے‘ اگر سعودی عرب نے مدد کر دی‘ اگر پٹرول ادھار مل گیا‘ اگر اوورسیز پاکستانیوں نے ڈالروں کی بارش کر دی‘ اگر صنعت کاروں‘ بزنس مینوں اور تاجروں نے ٹیکس دے دیا‘ اگر فیصل آباد کی صنعتیں چل پڑیں‘ اگر پٹرول سستا ہو گیا‘ اگر آئی ایم ایف نے نرم شرائط پر قرضہ دے دیا اور اگر 50 لاکھ گھر بن گئے تو ملک مشکلات سے نکل آئے گا چنانچہ میرا خیال ہے ایشو کوئی اور نہیں‘ ایشو صرف اگر ہے‘ آپ اگر پر پابندی لگا دیں تو ملک بحرانوں سے باہر آ جائے گا‘ ہم آج کے موضوعات کی طرف آتے ہیں‘ آپ کو یاد ہو گا عمران خان سول سرونٹس کو کیا کہا کرتے تھے لیکن آپ آج فواد چودھری کی ٹون اور تکبر سے بھرپور لہجہ دیکھئے، سول سرونٹس حکومت کے ماتحت نہیں ہوتے‘ یہ ریاست کے ماتحت ہوتے ہیں اور اگر انہوں نے آپ کی چاکری کرنی ہے تو پھر پرانی حکومتوں میں کیا خرابی تھی‘ دوسرا کل رات داخلہ کے سٹیٹ منسٹر شہریار آفریدی اسلام آباد کے تھانوں میں چھاپے مارتے مارتے پنجاب کی حدود میں گھس گئے اور وہاں اہلکاروں کو معطل بھی کر دیا، کیا تھانے چلانا وزراء کا کام ہے اور کیا یہ اداروں میں مداخلت نہیں‘ دوسرا آپ یہ بھی نہیں جانتے پنجاب کے تھانے آپ کے ماتحت نہیں ہیں‘ کیا یہ سسٹم اس طرح چل سکے گا اور عمران خان نے آج دعویٰ کیا،حالات خراب نہیں، اگر حالات اتنے خراب نہیں ہیں تو پھر اپوزیشن اور چیف جسٹس صاحب کیوں پریشان ہیں‘ یہ تینوں ایشوز ہمارے آج کے پروگرام کا موضوع ہوں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…