پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

ملکی تاریخ میں ڈالر پہلی بار 136 روپے تک پہنچ گیا،موجود حکومت سابق حکومت کی پالیسی نہ اپنائے بلکہ فوراً یہ کام کرے،ایکسچینج کمپنی ایسوسی ایشن نے بڑا مطالبہ کردیا

datetime 9  اکتوبر‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی)پاکستان کی جانب سے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے بیل آؤٹ پیکیج لینے کے فیصلے کے بعد ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا اور انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 136 روپے تک پہنچ گیا۔انٹربینک مارکیٹ میں ٹریڈنگ کے آغاز سے ہی روپے کی قدر میں یکدم کمی دیکھنے میں آئی اور ڈالر کی قیمت 11 روپے 70 پیسے اضافے کے ساتھ تاریخ کی بلند ترین

سطح 136 روپے تک جا پہنچی۔گزشتہ روز مارکیٹ کے اختتام پر انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 124 روپے 30 پیسے تھی جو منگل کو اچانک بڑھ گئی اور ٹریڈنگ کے دوران قیمت 136روپے سے تجاوز کرتے ہوئے بھی دیکھی گئی۔کرنسی ڈیلرز کے مطابق روپے کی قدر میں حالیہ کمی آئی ایم ایف کے دباؤ کا نتیجہ لگتی ہے کیونکہ آئی ایم ایف پہلے ہی روپے کی قدر میں 15 فیصد کمی کا مطالبہ کرچکا ہے۔ڈیلرز کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قیمت میں اچانک اضافے سے غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے اور ڈالر کی ڈیمانڈ بڑھنے کا امکان ہے۔انہوں نے بتایا کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت کئی ہفتوں سے انٹر بینک مارکیٹ کے مقابلے میں 4 سے 5 روپے سے زائد پر ہی ٹریڈ کررہی تھی۔ادھر ایکسچینج کمپنی ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ظفر پراچہ کے مطابق مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے باعث اوپن مارکیٹ میں ڈالر کا دستیاب ہونا مشکل ہے اور جب تک انٹربینک مارکیٹ میں استحکام نہیں آتا ڈالر کی دستیابی مشکل ہے۔انہوں نے کہا کہ موجود حکومت سابق حکومت کی پالیسی کو اپنانے سے گزیر سے اور روپے کی قدر میں کمی سے متعلق باقاعدہ اعلان کرے۔دوسری جانب چیئرمین فاریکس ایسوسی ایشن ملک بوستان نے دعویٰ کیا کہ آئی ایم ایف کے مطالبے پر روپے کی قدر کم کی گئی ۔انہوں نے کہا کہ ڈالر کی قدر بڑھنے سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…