اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

حکومت کے وزراءاور پارٹی کا تکبر کیا رنگ لائے گا؟پشاور اور حیدر آباد میں کیا ہوا؟کیا یہ لوگ حکومت کے قابل،لائق یا اہل بھی ہیں؟کیا عمران خان کا مشن اور وژن دونوں ایک پیج پر ہیں؟جاوید چودھری کاتجزیہ‎

datetime 4  اکتوبر‬‮  2018 |

اللہ تعالیٰ جب کسی کو آزماتا ہے تو اس سے لے کر آزماتا ہے یا پھر اسے دے کر آزماتا ہے‘ اللہ کی یہ دونوں آزمائشیں اس وقت ملک میں چل رہی ہیں‘ اللہ تعالیٰ شریف فیملی سے اقتدار لے کر انہیں آزما رہا ہے اور اس نے پاکستان تحریک انصاف کو اقتدار دے کر اسے آزمائش میں ڈال رکھا ہے‘ آپ آج کے دوواقعات دیکھ لیجئے‘ آج پشاور یونیورسٹی میں طلباء نے فیسوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کیا‘

نئے پاکستان کی نئی پولیس نے پرانے پاکستان کی طرح طلباء کو پھینٹا لگا دیا‘ گریبان پھٹ گئے‘ لاٹھیاں چلائی گئیں اور طلباء کو گھسیٹ کر گاڑیوں میں بھی ڈالا گیا‘ دوسرا واقعہ حیدرآباد میں پیش آیا‘ ملزم عارب نے دو اکتوبر کی رات بجلی کے پول میں گاڑی مار دی‘ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا‘ ملزم کو بچانے کیلئے حیدرآباد میں پی ٹی آئی کا ضلعی صدر علی ہنگورو تھانے پہنچا اور وہاں کیا ہوا آپ ملاحظہ کیجئے، یہ ضلعی صدر ہیں یا تھے جبکہ آپ اطلاعات ونشریات کے وفاقی وزیر فواد چودھری کی مشاہد اللہ کے خلاف تازہ ترین ٹویٹ بھی پڑھ لیجئے‘میں یہ بول نہیں سکتا‘ اس نوعیت کے واقعات آئے روز اور تواتر کے ساتھ ہو رہے ہیں‘ میں نے اپنی پوری پروفیشنل لائف میں آج تک کسی حکومت کے وزراء اور پارٹی دونوں میں اتنی جلدی تکبر آتے نہیں دیکھا اور مجھے محسوس ہوتا ہے یہ تکبر بہت جلد اس حکومت کو لے کر بیٹھ جائے گا‘ دنیا میں اقتدار ہو‘ دولت ہو یا پھر شہرت ہو یہ کسی کو بھی کسی بھی وقت مل سکتی ہے لیکن کیا یہ اس کے قابل‘ اس کے لائق یا اس کے اہل بھی ہے‘ یہ فیصلہ انسان کا رویہ کرتا ہے‘بزرگ کہتے ہیں آپ اگر اللہ کی مہربانی سے زیادہ دیر تک لطف لینا چاہتے ہیں تو پھر آپ عاجز ہو جائیں اور بھی نیویں ہو جائیں اللہ کا کرم جاری رہے گا ورنہ دوسری صورت میں جس طرح خدا کے دینے کی سمجھ نہیں آتی بالکل اسی طرح اس کے واپس لینے کی بھی کسی کو سمجھ نہیں آتی‘  میری درخواست ہے آپ کرسی پر بیٹھیں تو لوگوں کو محسوس ہونا چاہیے

آپ اس کرسی سے بہت اونچے ہیں بجائے اس کے کہ لوگ کہیں یہ اس قابل نہیں تھا۔ ہم آج کے موضوع کی طرف آتے ہیں، کیا پاکستان اپنے سنہری دور میں داخل ہو رہا ہے اور کیا عمران خان کا مشن اور وژن دونوں ایک پیج پر ہیں‘حکومت نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کیلئے فخر امام کا نام دے دیا لیکن اپوزیشن نے یہ مسترد کر دیا‘ یہ ڈیڈ لاک کہاں تک جائے گا اور ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے ضمنی الیکشن کیلئے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر لی‘ یہ رومانس کتنے دن چلے گا‘ یہ تمام نقطے ہمارا آج کا ایشو ہوں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…