اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

فلیگ شپ ریفرنس،نوازشریف کی عدم حاضری پر عدالت شدید برہم،بڑا حکم سنا دیا گیا

datetime 1  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی) احتساب عدالت میں فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس کی سماعت کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے وکیل خواجہ حارث کی عدم حاضری پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا جبکہ پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا کا بیان بھی قلمبند نہ ہوسکا۔احتساب عدالت نمبر 2 کے جج ارشد ملک نے سابق وزیراعظم کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت کی۔

عدالت نے فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں پیر کو پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا کو بیان قلمبند کروانے کے لیے طلب کر رکھا تھا۔ سماعت کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے وکیل خواجہ حارث عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔جس پر جج احتساب عدالت ارشد ملک نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے تھوڑی ہوتا ہے کہ ملزم اپنی مرضی سے آئے۔جبکہ معاون وکیل نے عدالت کو بتایا کہ خواجہ حارث کی طبیعت خراب ہے۔نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے کہا کہ نواز شریف نے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست بھی دائر نہیں کی، یہ مرضی سے عدالت کو چلانا چاہتے ہیں۔اس موقع پر معاون وکیل نے کہا کہ میں اس طرح کے الفاظ استعمال نہیں کرنا چاہتا۔جس پر عدالت نے سماعت میں کچھ دیر کے لیے وقفہ کردیا۔وقفے کے بعد سماعت کے دوبارہ آغاز پر بھی نواز شریف اور وکیل خواجہ حارث پیش نہ ہوئے، جس پر جج ارشد ملک نے معاون وکیل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملزم بھی نہیں ہے اور وکیل بھی نہیں، میں سارا دن آپ کا انتظار کرتا رہوں گا ۔جج ارشد ملک نے مزید کہا کہ میں نے آپ کا کیس سننے کے لیے باقی کیس ملتوی کیے، مجھے بتادیں آپ لوگ چاہتے کیا ہیں؟ساتھ ہی انہوں نے کہا میں آرڈر لکھوا دیتا ہوں، آپ لوگ پھر چیلنج کرتے رہنا۔معاون وکیل نے معزز جج سے کہا کہ نواز شریف سے رابطہ کیا جارہا ہے، مجھے چند منٹ دے دیں پتہ کرکے بتاتا ہوں۔معاون وکیل نے مزید کہا کہ میں نے آصف کرمانی سے رابطے کی کوشش کی۔

وہ فون نہیں اٹھا رہے اور جن سے رابطہ ہوا وہ کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف کو آج عدالت پیش ہونا تھا۔بعدازاں معاون وکیل کی جانب سے احتساب عدالت کو بتایا گیا کہ فلیگ شپ انویسٹمنٹ اور العزیزیہ ریفرنس کی الگ الگ تاریخوں کی وجہ سے غلط فہمی ہوئی، جس کی وجہ سے سابق وزیراعظم نواز شریف عدالت میں پیش نہیں ہوسکے۔معاون وکیل کا کہنا تھا کہ اگر عدالت وقت دے تو نواز شریف 2 سے 3گھنٹے میں پیش ہوجائیں گے، تاہم عدالت نے فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس کی سماعت 4 اکتوبر تک کے لیے ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…