بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

کالا باغ ڈیم کسی صورت نہیں بنے گا ،چا ہے آرٹیکل6 ہو یا کچھ اور کوئی پروا نہیں، سینیٹر عثمان کاکڑ بھی بول پڑے

datetime 25  ستمبر‬‮  2018 |

کوئٹہ( آن لائن)پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر وسینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم کسی صورت نہیں بنے گا ،چاہے آرٹیکل6 ہو یا کچھ اور ہمیشہ کوئی پروا نہیں اٹھارویں ترمیم کے تحت اختیارات صوبوں کو منتقل کیا جائے اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو ملک بحرانوں سے دوچار ہو گا افغان مہا جرین کو شہریت دینا ضروری ہے جو لوگ مخالفت کر رہے ہیں وہ اپنی ذاتی مفادات کے باعث مخالفت کر رہے ہیں اگر صرف ان مہا جرین پر اعتراض ہے

جب دوسری جانب سے مہا جرین آرہے ہیں تو ان کی آج تک کیوں مخالفت نہیں کی گئی نئے پاکستان بنانے والوں نے عوام کو بوجھ تلے ڈال دیا ہر چیز مہنگی ہو رہی ہے کیا یہ نیا پاکستان ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک نجی ٹی وی سے بات چیت کر تے ہوئے کیا انہوں نے کہا ہے کہ پشتونخواملی عوامی پارٹی نے ہمیشہ آئین وقانون کی بالادستی کی بات کی ہے اور ہم ہمیشہ جمہوری قوتوں کو ساتھ دے رہے ہیں کیونکہ اس ملک کو جمہوریت ہی کے تحت مضبوط کیا جا سکتا ہے کالا باغ ڈیم کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے دفن ہو چکا ہے اب اس پر سیاست کرنے کی کوئی ضرورت ہے ہم ڈیم کے مخالف نہیں ہے جہاں ڈیم بنے گا وہاں فائدہ ملے گا مگر ایسے متنازعہ چیزوں کو نہ چھیڑا جائے ایسے متنازعہ چیزوں سے ملک بحرانوں کو شکار ہو گا ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لئے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا اور ایگر ایسا نہ کیا گیا تو معاشی بد حالی مزید شدت اختیار کرے گی انہوں نے کہا ہے کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ تمام صوبوں کو ان کے وسائل مبارک ہوں مگر ہمارے وسائل پر کسی کو بھی قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دینگے ملک میں قومی برابری سے ہی مسائل حل ہونگے کیونکہ جب تک برابری نہ ہو اس وقت تک حالات ٹھیک نہیں ہو سکتے ایک سازش کے تحت پشتونوں کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اب پشتونوں کو متحد کرنے کے لئے ہمیں جدوجہد کرنا چا ہئے انہوں نے کہا ہے کہ اس ملک میں کبھی بھی عوامی بجٹ پیش نہیں ہوسکتا کیونکہ یہاں 90 فیصد لوگ سرمایہ دار اور جا گیر دار ہے جس کی وجہ سے وہ عوامی مفادات کی بجائے وہ اپنے مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کو حقیقی نمائندگی دی جائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…