جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

واپڈا نے اہم سنگ میل حاصل کر لیا بڑ امنصوبہ مکمل کر کے فعال بھی کردیا

datetime 23  ستمبر‬‮  2018 |

لاہور (آن لائن) واپڈا نے ایک اور اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے گولن گول ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سے پیدا ہونے والی بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کرنے کے لئے گولن گول ۔ تیمرگرہ ترسیلی لائن مکمل کر لی ہے ۔180 کلو میٹر طویل یہ ترسیلی لائن پاکستان کے سب سے دشوار گزار پہاڑی سلسلوں سے گزرتی ہے ، جہاں موسمی حالات شدید ترین ہوتے ہیں ۔ مذکورہ ترسیلی لائن کے لئے بلند اور برف پوش پہاڑی چوٹیوں سمیت

مختلف علاقوں میں مجموعی طور پر 706ترسیلی ٹاورز نصب کئے گئے ہیں ۔ اِن ترسیلی ٹاورز میں 141 ٹاورز 132کلو وولٹ جبکہ 565ٹاورز 220 کلووولٹ کے ہیں ۔ مذکورہ ترسیلی لائن کا بلند ترین ٹاور 10 ہزار 312 فٹ کی بلندی پر لواری ٹاپ کے مقام پر نصب کیا گیا ہے ۔ پاکستان میں اِس سے قبل اتنی بلندی پر ترسیلی ٹاور کبھی نصب نہیں کیا گیا ۔2007 ء میں پاور ونگ کی تنظیم نو کے بعد اگرچہ ترسیلی لائنوں کی تعمیر واپڈا کی ذمہ داری نہیں ہے تاہم واپڈا نے گولن گول ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لئے ترسیلی لائن کی تعمیر کو ایک چیلنج کے طور پر لیا اور اِسے کامیابی کے ساتھ مکمل کرکے فعال بھی کر دیا ہے ۔ گولن گول سے تیمر گرہ تک ترسیلی لائن فعال ہونے کے بعد گولن گول ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کو نیشنل گرڈ سے منسلک کیا جاچکا ہے ۔ منصوبے کے دوسرے یونٹ سے آزمائشی بنیاد پر نیشنل گرڈ کو بجلی فراہم کی جارہی ہے ۔ سٹینڈرڈآپریٹنگ پروسیجر کے تحت پراجیکٹ کے دوسرے یونٹ کو اِس کی انتہائی پیداواری صلاحیت یعنی 36میگاواٹ سمیت مختلف لوڈ پر چلایا جارہا ہے ۔ قبل ازیں گولن گول ہائیڈرو پاورپراجیکٹ کا پہلا یونٹ اِس سال جنوری میں آپریشنل ہونے کے بعد سے چترال شہر اور اِس کے نواحی علاقوں کو واپڈا کی جانب سے تعمیر کئے گئے متبادل انتظام کے تحت بجلی فراہم کر رہا ہے۔ مذکورہ یونٹ سے چترال کی بجلی سے متعلق تمام ضروریات پوری کی جارہی ہیں ۔گولن گول سے بجلی کا پیداواری عمل شروع ہونے کے بعد سے اب تک صارفین کو 33 ملین یونٹ بجلی مہیا کی جاچکی ہے ۔

منصوبے کا تیسرا اور آخری یونٹ بھی مکمل کیا جاچکا ہے، اِس یونٹ سے بھی بجلی کی پیداوار جلد شروع ہو جائے گی ۔گولن گول ہائیڈرو پاور پراجیکٹ صوبہ خیبرپختونخوامیں چترا ل کے قریب دریائے مستوج کے معاون دریا گولن گول پر تعمیر کیا گیا ہے ۔ منصوبے کے تین پیداواری یونٹ ہیں ، ہر یونٹ کی پیداواری صلاحیت 36 میگاواٹ ہے منصبوبے کی مجموعی پیداواری صلاحیت 108 میگاواٹ ہے ، منصوبہ ہر سال قومی نظام کو اوسطاً 436 ملین یونٹ بجلی مہیا کرے گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…