پیر‬‮ ، 15 جون‬‮ 2026 

پاکستان میں موجود تمام افغان مہاجرین کی وطن واپسی کیلئے تیاریاں شروع،دھماکہ خیز اعلان کردیاگیا

datetime 8  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد( آن لائن ) پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین فلیپو گرینڈی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں موجود تمام افغان مہاجرین کی وطن واپسی کیلئے انتظامات کیے جارہے ہیں۔ وطن واپسی سے پہلے انہیں تعلیم اور فنی تربیت دینا لازمی ہے تاکہ وہ افغانستان پہنچ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکیں۔ دنیا میں مہاجرین کی سب سے طویل مہمان نوازی کرنے پر پاکستان کے شکرگزار ہیں۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے اقوام متحدہ کے ایمر جنسی کواڈینٹر مارک لوپوک ، پاکستان میں خیر سگالی کی سفیر اداکارہ ماہرہ خان اور دیگر حکام کے ساتھ اضا خیل ری پیٹریشن سینٹر کے دورہ کے دوران کیا۔ فلیپو گرینڈی نے کہا کہ افغان مہاجرین افغانستان میں سیکیورٹی کی وجہ وطن واپس جانے سے کتراتے ہیں ، انہیں مزید امداد کی ضرورت ہے۔ ہمیں افغان مہاجرین کو نہیں بھولنا چاہیے اور مزید وسائل افغان مہاجرین پر خرچ کرنا ہونگے۔ افلیپو گرینڈی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دنیا میں سب سے طویل مہمان داری کی ہے اس سلسلے میں پاکستان کے شکر گزار ہیں۔ گزشتہ عرصہ کے دوران چار ملین افغان مہاجرین واپس جاچکے ہیں اور بہت سے جارہے ہیں۔ ہم کوشش کررہے ہیں کہ پاکستان میں موجود باقی مہاجرین بھی واپس جاسکیں البتہ ان کیلئے تعلیم اور فنی تربیت دینا لازمی ہے تاکہ وطن واپسی کے بعد اپنے روزگار کا بندوبست کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ دوسال قبل بھی پاکستان کا دورہ کرچکے ہیں، البتہ اس مرتبہ حالات نسبتا بہتر ہیں۔اس موقع پر اقوا م متحدہ ہائی کمیشن برائے پناہ گزین کی خیر سگالی کی سفیر اداکارہ ماہرہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بے گھر بچوں کے مستقبل کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا کیوں کہ بچے مستقبل کا معمار ہیں۔اداکارہ ماہرہ خان نے پشاور میں اقوام متحدہ ہائی کمشنر برائے پناہ گزین (یو این سی ایچ آر) کیمپ کا بطور خیرسگالی سفیر دورہ کیا ۔اس دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پہلی بار پشاور آئی ہوں اور بچوں سے مل کر بہت خوشی ہوئی ہے،

خوش ہوں کہ اتنے اچھے مقصد کے لیے مجھے چنا گیا اور یو این ایچ آر کی طرف سے جو ذمہ داری سونپی گئی اسے اچھی طرح سے نبھاؤں گی۔ماہرہ خان کا کہنا تھاکہ بے گھربچوں کی بحالی کے لیے کام کی ضرورت ہے، بے گھر افراد میں سب سے زیادہ بچے شامل ہیں اور ہمیں ان کے مستقبل کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا کیوں کہ بچے مستقبل کا معمار ہیں۔اس دوران ری پیٹریشن سینٹر کے حکام نے اقوام متحدہ کے وفد کو سہولیات سے متعلق بریفنگ بھی دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نصیب کی مکھی


ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…