جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

’’انتخابات میں کلین سویپ یا واضح برتری ، تحریک انصاف کا خواب چکنا چور‘‘ کپتان کا خواب چکنا چوراگر وزیراعظم بننا ہے تو یہ کام کرنا پڑیگا، عمران خان کو ایسا فارمولابتادیا گیا کہ جان کر آپ بھی حیران رہ جائینگے، بڑا دعویٰ کر دیا گیا‎

datetime 22  جون‬‮  2018 |

ملتان(آئی این پی) پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہم نے دیانتداری سے میرٹ کو فوقیت دی ہے‘ ساڑھے چار ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئی ہیں‘ ہر حلقے میں درخواستوں پر درخواستیں آرہی ہیں‘ ہم نے ٹکٹوں کے معاملے میں دیانتداری اور وفاداری کو دیکھا ہے‘ دوسری کسی جماعت کو اتنی درخواستیں موصول نہیں ہوئیں‘ نمبر گیم سے ہی عمران خان وزیراعظم بن سکتے ہیں۔

جمعہ کو شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹکٹوں کے معاملے پر ہم نے دیانتداری سے بیٹھ کر تین اصولوں کو آسان بنایا ہے۔ ٹکٹوں کا معاملہ آسان بنایا ہے ہم نے ٹکٹوں کے معاملے میں دیانتداری‘ وفاداری کو دیکھا۔ ہم نے دیانتداری سے میرٹ کو فوقیت دی ساڑھے چار ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئی ہیں دوسری کسی جماعتوں کو اتنی درخواستیں نہیں ملیں۔ عوام جانتے ہیں کہ تحری کانصاف ایک مقبول جماعت ہے۔ ہر حلقے میں آج درخواستوں پر درخواستیں آرہی ہیں۔ بعض ارکان کی ٹکٹوں کے معاملے میں دل آزاری ہوئی ایک ایک نمائندے کو اسلام آباد بلا کر ان کی باتیں سنیں گئیں۔ عمران خان کا فیصلہ ہے کہ وہ دیانتداری سے پارٹی کے فیصلے کریں گے ہم چاہتے ہیں کہ عوام کو حقائق سے آگاہ کریں آج ایک حلقے میں کئی کئی امیدوار ہیں بنی گالہ میں کارکن اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کے لئے بیٹھے ہیں۔ نمبر گیم سے ہی عمران خان وزیراعظم بن سکتے ہیں۔ انسان عقل کل نہیں نیک نیتی سے فیصلہ کرسکتا ہے میں دیانتداری سے بات کررہا ہوں میں جو بات کررہا ہوں عمران خان جانتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…